.

تونسی پارلیمنٹ کے اسپیکر راشد الغنوشی پر عوامی حلقوں کے بعد پارٹی قیادت کی بھی تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تونس میں النہضہ موومنٹ کے سربراہ راشد الغنوشی پر پے درپے کاری ضربوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گذشتہ دنوں کے دوران بعض مظاہروں میں عوامی حلقوں کی جانب سے پارلیمنٹ کے اسپیکر پر تنقید کی آوازیں بلند ہونے کے بعد ،،، اب خود النہضہ موومنٹ کے اندر سے بعض شخصیات الغنوشی پر زور دے رہی ہیں کہ وہ مستعفی ہو جائیں۔

النہضہ موومنٹ کی مجلس شوری کے رکن اور رہ نما زبیر الشہودی نے موومنٹ کے سربراہ اور پارلیمنٹ کے اسپیکر راشد الغنوشی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیاست سے کنارہ کش ہو کر سیاسی منظر نامے سے ہٹ جائیں۔

پیر کی شام ایک مقامی ٹی وی چینل کے پروگرام میں شرکت کے دوران الشہودی کا کہنا تھا کہ "میں الغنوشی کو مخلصانہ طور پر نصیحت کرتا ہوں کہ وہ پارٹی کی سربراہی سے سبک دوش ہو جائیں اور سیاست سے حتمی طور پر کنارہ کشی اختیار کر لیں .. عبدالفتاح مورو کے مستعفی ہونے اور الباجی قائد السبسی کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد آپ کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہی ،،، آپ دست بردار ہو جائیں..."۔

الشہودی نے زور دے کر کہا کہ النہضہ موومنٹ کی آئندہ کانفرنس میں الغنوشی کے دوبارہ سے پارٹی سربراہ منتخب ہونے کی کوئی گنجائش نہیں اس لیے کہ پارٹی الغنوشی پر قائم نہیں ہے اور وہ ان کے بغیر بھی چلنے کی قدرت رکھتی ہے۔

یاد رہے کہ الغنوشی کی جاں نشینی کا معاملہ النہضہ موومنٹ کے سامنے سرفہرست ہے۔ یہ پارٹی کے اندر نمایاں ترین اختلافی نکات میں شمار ہوتا ہے۔ موومنٹ کا ایک گروپ ایک بار پھر الغنوشی کو سربراہ دیکھنا چاہتا ہے جب کہ پارٹی کا داخلی قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔ پارٹی کا دوسرا گروپ الغنوشی کی سبک دوشی اور پارٹی قیادت میں نیا خون لانے کا طالب ہے۔

حالیہ عرصے میں راشد الغنوشی کو پارلیمنٹ میں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ان سے پوچھ گچھ کے مطالبے کی مہم چلائی گئی۔ یہ مہم کامیاب رہی اور اس مقصد سے پارلیمنٹ کے اجلاس کے لیے تین جون کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

الغنوشی کے خلاف مہم میں بعض ارکان پارلیمںٹ نے الزام عائد کیا کہ پارلیمنٹ کے اسپیکر نے متعدد اطراف بالخصوص ترکی کے ساتھ خارجہ تعلقات کے میدان میں اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کیا۔

اسی طرح الغنوشی کی دولت اور اس کے ذرائع کے حوالے سے تنقید اور سوالات سامنے آئے۔