.

لیبیا کے متحارب فریقین ایک بار پھر اقوام متحدہ کی زیر نگرانی مذاکرات پرتیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن کے مطابق قومی وفاق حکومت اور اس کے خلاف جنگ لڑنے والی نیشنل آرمی نے جنگ بندی کے لیے دوبارہ مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دارالحکومت طرابلس پرقبضے کےلیے کئی ماہ سے جاری جاری لڑائی میں ایک بار متحارب فریقین نے جنگ بندی کی تجویز پربات چیت کے لیے آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے جنگ زدہ ملک میں متحارب گروپوں کا مذاکرات کی میز پرآنے کے اعلان کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ قومی وفاق حکومت اور لیبی فوج کا جنگ بندی کے لیے بات چیت پرتیار کرنا خوش آئند ہے۔ دونوں فریقین رواں سال 23 فروری کو پانچ پانچ ارکان پر مشتمل مشترکہ عسکری کمیٹی کےقیام کے فارمولے کے تحت بات چیت پر تیار ہو گئے ہیں۔

یو این ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ لیبیا کے متحارب دھڑوں کے درمیان بات چیت کی بحالی لیبی عوام کا اہم ترین مطالبہ ہے۔ لیبیا کے عوام پرامن اور باوقار زندگی کے لیے ملک میں جاری جنگ کا خاتمہ، ملک میں سیاسی بنیادوں پر ایک دوسرے کے خلاف جاری نفرت ختم کرنا اور تمام ریاستی اداروں کی بحالی چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ لیبیا میں عالمی سطح پراقوام متحدہ کی تسلیم شدہ قومی وفاق حکومت اور منحرف فوجی جنرل خلیفہ حفتر کی زیرکمان فوج کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ نیشنل آرمی قومی وفاق پر ترکی سے عسکری مدد لینے کا الزام عاید کرتی ہے جبکہ قومی وفاق فوج پر یورپی ملکوں سے معاونت حاصل کرنے کا الزام عاید کررہی ہے۔