.

سعودی عرب، امارات کا مصر کی مساعی سے لیبیا میں جنگ بندی کا خیر مقدم

لیبیا میں جاری بحران کےسیاسی حل کی ضرورت پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مصر کی کوششوں سے لیبیا میں جاری لڑائی روکنے اور کل8 جون سے عارضی جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ دونوں بڑے خلیجی عرب ملکوں نے لیبیا میں جاری بحران کے سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے ایک بیان میں کہا کہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی کوششوں سے لیبیا میں جنگ بندی کا اعلان قابل تحسین اقدام ہے۔ سعودی عرب اس کی مکمل حمایت کرتے ہوئے لیبیا کے متحارب فریقین سے تمام اختلافات اور تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ لیبیا میں جنگ بندی کے لیے ہونے والی تمام مساعی کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ اس حوالے سے سعودی عرب مصر کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ سعودی عرب نے لیبیا میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے جنیوا اور برلن اعلانات پرعمل درآمد پربھی زور دیا۔

وزارت خارجہ کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ سعودی عرب لیبیا کے امن، استحکام، ترقی اور خوش حالی کا خواہاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ الریاض نے ہمیشہ لیبیا میں تمام فریقین کے درمیان تنازعات کے سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ادھر متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نےبھی لیبیا میں مصر کی کوششوں سے ہونے والے جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ گذشتہ روز لیبیا کی نیشنل آرمی کے سربراہ جنرل خلیفہ حفتر اور لیبی پارلیمنٹ کے اسپیکر عقیلہ صالح نے قاہرہ میں صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں لیبی فوج نے قومی وفاق حکومت کے خلاف کل 8 جون سے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔