.

پولیس قوانین میں ترمیم کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی : امریکی وزیر انصاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے وزیر انصاف ولیم بار نے باور کرایا ہے کہ ملک میں قانون کا نظام منظم طور پر نسل پرستی پر مبنی نہیں ہے۔ انہوں نے پولیس کے کام کرنے سے متعلق قوانین میں ترمیم کے مطالبات کی مخالفت کی۔

اتوار کے روز امریکا میں احتجاجی مظاہروں کی شدت میں کمی آئی جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دارالحکومت واشنگٹن سے نیشنل گارڈز کو ہٹا لینے کا اعلان کر دیا۔ میناپولس میں ایک پولیس اہل کار کے ہاتھوں سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر عوامی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

اتوار کی شام "CBS" چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی وزیر انصاف کا کہنا تھا کہ "امریکا میں ابھی تک نسل پرستی موجود ہے مگر میں نہیں سمجھتا کہ قانون نافذ کرنے کا نظام نسل پرستی پر مبنی ہے"۔ ولیم بار کے مطابق ماضی میں ریاستی ادارے واضح طور پر نسل پرستی کا شکار تھے۔ تاہم گذشتہ صدی میں انیس سو ساٹھ کی دہائی سے ہم نے اصلاحی مرحلے کا آغاز کیا۔ اس حوالے سے بڑی پیش رفت کو یقینی بنایا گیا اور شاید فوج اس کی بہترین مثال ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر انصاف نے کہا کہ پولیس کے قوانین میں ترمیم اور پولیس کے بعض بُرے اہل کاروں کے تعاقب کے حوالے سے مامونیت کم کرنے کا کوئی جواز نہیں۔

ولیم بار کے مطابق ملک میں مشکل ترین ذمے داری پولیس کا کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ "میں سمجھتا ہوں کہ پولیس اہل کاروں کی اکثریت اچھے لوگوں پر مشتمل ہے جو عوام کی خدمت کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں اور شجاعت اور حق کے ساتھ ایسا کر رہے ہیں"۔ بار کے نزدیک کسی کی انفرادی حرکت کا ملبہ مجموعے یا پورے ادارے پر ڈال دینا جواز کا حامل نہیں۔

احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 10 ہزار امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے ارادے کے حوالے سے وزیر انصاف ولیم بار نے اس کی تردید کی۔ بار نے باور کرایا کہ ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ جو کچھ صدر کے ساتھ بات چیت ہوئی وہ ہنگامہ آرائی کی کارروائیوں میں اضافے کی صورت میں امکانات کے حوالے سے تھی۔

اس سے قبل ایک سینئر امریکی ذمے دار نے بتایا تھا کہ ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے ایک اجلاس کے دوران اپنے مشیروں کو آگاہ کیا کہ وہ واشنگٹن میں 10 ہزار فوجیوں کو تعینات کرنا چاہتے ہیں .. تا کہ مظاہروں کے دوران سامنے آنے والی شورش، ہنگامہ آرائی ، دکانوں کی توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کو روکا جا سکے۔

سینئر ذمے دار نے مزید بتایا کہ اجلاس میں اختلاف رائے دیکھنے میں آیا۔ اجلاس کے دوران وزیر دفاع مارک ایسپر ، جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل مارک میلی اور وزیر انصاف ولیم بار نے مذکورہ فوجیوں کے تعینات نہ کرنے کی سفارش کی۔