.

ایرانی شپنگ سروس پر امریکا کی سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ نفاذ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

محکمہ خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانےوالے ہتھیاروں کا لین دین کرنے والے ممالک اور اداروں پر پابندیوں کے چھ ماہ بعد شنگھائی میں قائم ایرانی شپنگ سروس پر بدترین پابندیوں کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے۔

نئی پابندیوں میں ایران سے منسلک 125 بحری جہاز اور ٹینکر شامل ہیں۔

واضح رہے کہ چھ ماہ کی ڈیڈ لائن کے دوران ایرانی انسانی ضروریات کے سامان برآمد کنندگان کو متبادل جہاز رانی کے طریقے تلاش کرنے کا وقت دیا گیا تھا۔

ایرانی شپنگ سروس پر بیلسٹک میزائل ، ایرانی فوجی پروگراموں اور حساس فوجی مواد سے متعلقہ اشیاء کی نقل و حمل کا الزام ہے جس میں نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے زیر کنٹرول مواد شامل ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ان الزامات کے باوجود کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیاروں اور اس سے متعلق نظام کی ترقی نہیں کرے گا ایرانی حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عسکری سرگرمیوں کی توسیع کے لیے حساس مواد کی تلاش اور خریداری جاری رکھی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہےکہ عالمی برادری کو ایران کی مستقل دھوکہ دہی کا نوٹس لینا چاہیے۔

پومپیو نے دنیا بھر کی بحری صنعتوں اور حکومتوں پر زور دیا کہ وہ غیر قانونی جہاز رانی اور ایران کی غیر قانونی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے بین الاقوامی بحری نظام کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے 14 مئی 2020ء کو امریکا فیصلے اور معلومات پر نظر ثانی کریں۔