.

ترک ملیشیائیں لیبیا میں جنگی جرائم کی مرتکب ہو رہی ہیں:المسماری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی مسلح افواج کے ترجمان میجر جنرل احمد المسماری نے لیبیا میں ترکی کی مداخلت کو ایک بار پھر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج لیبیا کی سرزمین کی وحدت برقرار رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن واستحکام کے لیے فوج ہر حربہ استعمال کرے گی اور ترکی کی حمایت یافتہ ملیشیائوں کو کچلنے کے لیے فضائی طاقت کا بھرپور استعمال کرے گی۔

جنرل المسماری نے بن غازی میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ترکی کی حمایت یافتہ ملیشیا نے لیبیا کے شہریوں کے خلاف جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تُرکی لیبیا کی خودمختاری کی خلاف ورزی کے لیے نیٹو میں اپنی رکنیت استعمال کررہا ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملیشیا نے شہریوں کے تقدس کو پامال کیا اور عوام کی طرف سے ملک میں بے گھر ہونے والے لوگوں کی مدد کے لیے کی جانےوالی کوششوں کی تعریف کی۔

قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ نے گذشتہ اتوار کو طرابلس کی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ملک کے مغرب میں اصابعہ اور ترہونہ شہروں میں انقرہ کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں اور شامی اجرتی قاتلوں کے ہاتھوں ہونےوالی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی تحقیقات کرے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ترھونہ کے اسپتالوں میں بڑی تعداد میں مسخ شدہ لاشیں لائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ترھونہ اور الاصابعہ شہروں میں غیرملکی اور مقامی جنگجوئوں کے ذریعے کی جانے والی لوٹ مار اور بڑے پیمانے پر شہری املاک کو نقصان پہنچانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ ان واقعات کی فوری روک تھام کے ساتھ ان کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔