.

شامی صدربشارالاسد نے وزیراعظم عماد خمیس کو چلتا کیا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد نے اپنے وزیراعظم عماد دیب محمد خمیس کو برطرف کردیا ہے۔وہ 2016ء سے وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز تھے۔

شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق بشارالاسد نے جمعرات کو ایک صدارتی فرمان کے ذریعے انھیں چلتا کیا ہے لیکن اس نے اس اچانک فیصلے کی کوئی وجہ نہیں بتائی ہے۔صدر اسد نے اب ان کی جگہ آبی وسائل کے وزیر حسین آرنوس کو نیا وزیراعظم نامزد کرکے حکومت بنانے کی دعوت دی ہے۔

نامزد وزیراعظم آرنوس کی عمر 67 سال ہے۔ وہ شمال مغربی صوبہ ادلب سے تعلق رکھتے ہیں اور اسد رجیم میں ایک عرصے سے مختلف عہدوں پر فائز چلے آرہے ہیں۔وہ ماضی میں عراق کے ساتھ واقع صوبہ دیرالزور اور شام کے جنوب میں واقع صوبہ القنیطرہ کے گورنر رہ چکے ہیں۔

جنگ زدہ شام کو اس وقت بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے اور اس کی کرنسی کی قدر میں حالیہ دنوں میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے۔اس وجہ سے عام شامی شہری گوناگوں مسائل سے دوچار ہو گئے ہیں۔

اسی ہفتے شامی پاؤنڈ کی ڈالر کے مقابلے میں قدر بہت زیادہ گر گئی ہے اور ایک ڈالر کی قیمت 3000 پاؤنڈ ہوگئی ہے۔شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے وقت ایک ڈالر کی قیمت 47 پاؤنڈ تھی۔

شامی حکام مغرب کی عاید کردہ مختلف پابندیوں کو عام شہریوں کی مشکلات کا مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں جبکہ کرنسی کی قدر میں کمی کی وجہ سے خوراک سمیت بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔

شامی حکومت نے امریکا کی سیزر قانون کے تحت عاید کی جانے والی نئی سخت پابندیوں پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔ان پابندیوں کا اسی ماہ سے اطلاق ہورہا ہے۔ماہرین اقتصادیات اور سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں سے بشارالاسد کی حکومت کا شِکَنجَہ مزید کسا جائے گا۔