.

شام: حزب اللہ کی چیک پوسٹیں قومی دفاع ملیشیا کے ہاتھوں میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کے باوثوق ذرائع نے ہفتے کے روز بتایا کہ قومی دفاع کے نام سے جانی جانے والی ملیشیا کی عسکری کمک نے مشرقی دیر الزور کے دیہی علاقے میں پہنچ کر وہاں ایران نواز ملیشیاؤں کی چیک پوسٹوں کو لے لیا۔

معلومات کے مطابق بشار الاسد کی فوج کی ہمنوا قومی دفاع کی فورسز کی 30 فوجی گاڑیاں دمشق سے دیر الزور صوبے کے مشرق میں البوکمال شہر پہنچیں۔ بعد ازاں اس کمک کو شہر میں لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے زیر نفوذ علاقوں میں تعینات کر دیا گیا۔

اس سے قبل رواں ماہ جون میں ہی المرصد نے بتایا تھا کہ "فاطميون" ملیشیا نے دیر الزور کے مشرق میں واقع شہر المیادین میں اپنے ٹھکانوں کی جانب ایک عسکری قافلے کو پہنچایا تھا۔ عراق کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے الہری سے آنے والی تقریبا 30 گاڑیاں عسکری اور لوجسٹک ساز و سامان کے علاوہ جنگجوؤں کو لے کر پہنچی تھیں۔ اس وقت یہ فوجی قافلہ المزارع کے علاقے میں ٹھہر گیا تھا۔ اس علاقے کو ایرانی فورسز اور اس کی ہمنوا ملیشیاؤں نے دیر الزور میں اکٹھا ہونے کا ایک بڑا مرکز بنا لیا تھا۔

رواں سال مئی کے اواخر میں المرصد نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی ملیشیا کے درجنوں ارکان پر مشتمل ایک نئی کھیپ مشرقی دیر الزور کے شہر البوکمال پہنچی۔ عراق سے آنے والی ایک بس جنگجوؤں کو لے کر وہاں پہنچی تھی۔

یاد رہے کہ امریکی کانگرس کا منظور کردہ نیا قانون جلد ہی نافذ العمل ہو جائے گا۔ اس کے تحت شامی حکومت کو سپورٹ پیش کرنے والے ہر شخص اور ادارے کو سزا دی جائے گی۔ یہ قانون امریکی صدر کو پابند کرتا ہے کہ وہ شامی صدر بشار الاسد کے حلیف ممالک پر پابندیاں عائد کریں۔

اسی طرح دمشق میں بشار حکومت اور اس کے ساتھ معاملات کرنے والے ہر فریق پر امریکا کا شدید دباؤ ہے۔ لبنان میں حزب اللہ سے لے کر عراق میں الحشد الشعبی ملیشیا تک .. ان میں لبنان میں مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور ایسے کاروباری افراد شامل ہیں جن کے شامی حکومت کے ساتھ تجارتی تعلقات ہیں .. یہ تمام امریکی قانون کی لپیٹ میں آئیں گے۔