عرب لیگ کی شمالی عراق میں ترکی کے کردوں کے خلاف فوجی آپریشن کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عرب لیگ کے عرب ممالک کے سکریٹری جنرل احمد ابوالغیث نے کردستان ورکرز پارٹی کے عناصر کا مبینہ پیچھا کرنے کے لیے شمالی عراق کے علاقوں میں ترکی کی جانب سے شروع کیے گئے فوجی آپریشن کی مذمت کی ہے۔ عرب لیگ کا کہنا ہے کہ ترکی کی فوجی مداخلت عراق کی خودمختاری پر حملے کے مترادف ہے۔ ترکی کی طرف سے شمالی عراق میں کرد باغیوں پر حملے بغداد میں حکومت کی حمایت کے بغیر ہو رہے ہیں۔ جس سے ترکی کی عربوں اور کردوں سے عداوت کی عکاسی ہوتی ہے۔ عراق میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے انقرہ بین الاقوامی قانون اور اپنے عرب پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کی توہین کررہا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ عرب ملکوں میں ترکی کی فوجی مداخلت، چاہے وہ شام ، لیبیا یا عراق میں ہوں تمام عرب ممالک کےلیے تشویش کا باعث ہیں۔ ہم عراق اور دوسرے عرب ملکوں میں ترکی کی فوجی مداخلت کو مسترد کرتے ہیں۔

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ترکی عرا اور دوسرے ملکوں پر حملوں کے ذریعے اپنے پرانے توسیع پسندانہ عزائم کے حصول کے لیےکوشاں ہے۔

عرب لیگ کے ہیڈ کواٹر میں جنرل سیکرٹریٹ کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ رواں سال مارچ میں تنظیم نے ترکی کی عرب ممالک میں مداخلت کے خلاف ایک قرارداد منظور کی تھی۔ قرارداد میں عراق اور دوسرے عرب ملکوں میں ترکی کی مداخلت کے خلاف متفقہ موقف اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں