.

غزہ سے داغا جانے والا راکٹ اسرائیلی یہودی بستی کے نزدیک جا گرا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی اراضی میں پیر کی شب غزہ پٹی سے داغا جانے والا ایک راکٹ اسرائیلی بستی کے نزدیک جا گرا۔

مذکورہ راکٹ سرحدی پٹی پر ایک اسرائیلی بستی کے نزدیک کھلے میں گرا۔ العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے نمائندے کے مطابق اس موقع پر خطرے کے سائرن بھی نہیں بجائے گئے۔

اس سے قبل پیر کے روز مزاحمتی تنظیم "حماس" نے فلسطینیوں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے کے حصوں کو ضم کرنے کے منصوبے کے جواب میں اسرائیل کے سامنے "مزاحمت" کے لیے کھڑے ہو جائیں۔ تنظیم نے زور دیا کہ اس منصوبے کے خلاف ہر طرح سے مزاحمت کی جائے۔

اسرائیل کی جانب سے یہ اعلان کیا جا چکا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی یہودی بستیوں اور غور اردن کے تزویراتی علاقے کو ضم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اسرائیل کا یہ اعلان یکم جولائی سے نافذ العمل ہو گا۔ فلسطینیوں ، عربوں اور یورپی یونین نے اس منصوبے کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے۔

گذشتہ 14 برس سے غزہ پٹی پر کنٹرول رکھنے والی تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیلی کی جانب سے ضم کیے جانے کے منصوبے کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی سطح پر سرگرمیاں شروع کرے گی۔ حماس کے رہ نما صلاح البردویل نے غزہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ اوسلو معاہدے کی روشنی میں اسرائیل قبضے کو تسلیم کرنے کے فیصلے سے دست بردار ہو جائے۔