.

امریکا کی شامی نظام ،اسد خاندان اور اہم عہدے داروں کے خلاف سخت پابندیاں عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے شامی صدر بشارالاسد ،ان کے خاندان کے افراد اور اسد رجیم کے ساتھ کاروبار کرنے والے کسی بھی فرد یا ادارے کے خلاف سخت پابندیوں کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چھے ماہ قبل سیزر شامی شہری تحفظ ایکٹ پر دست خط کیے تھے۔یہ سیزر ایکٹ بھی کہلاتا ہے اور یہ آج بدھ سے نافذالعمل ہوگیا ہے۔

امریکا نے پہلے مرحلے میں 39 شامی افراد اور اداروں کو بلیک لسٹ قرار دے کر ان پر پابندیاں عاید کی ہیں اور کہا ہے کہ یہ شام کے خلاف اقتصادی اور سیاسی دباؤ برقرار رکھنے کی پائیدار مہم کا نقطہ آغاز ہے۔اس کا مقصد اسد رجیم کو آمدن کے حصول سے روکنا ہے۔

امریکا نے جن بدنام زمانہ شامی شخصیات پر پابندیاں عاید کی ہیں،ان میں خود بشارالاسد کے علاوہ ان کی اہلیہ اسماء ، ان کے چھوٹے بھائی ماہرالاسد اور ان کی بہن بشریٰ شامل ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک بیان میں اسماء کا خاص طور پر ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے خاوند کی مدد گار رہی ہیں اور ان کا اخراس خاندان شامی جنگ میں مالی منفعت حاصل کرنے والوں میں شامل ہے۔اب جو کوئی بھی اس خاندان اور اداروں سے کاروبار کرے گا تو وہ پابندیوں کے خطرے سے دوچار رہےگا۔

امریکا نے ماہر الاسد کے زیر قیادت شامی عرب فوج کے فورتھ ڈویژن اور اس کی قیادت پر بھی پابندیاں عاید کردی ہیں۔شام میں لڑنے والی ایرانی ملیشیا فاطمیون بریگیڈز اور اس کے مالی معاون محمد ہامشو پرامریکا نے پابندیاں عاید کردی ہیں۔شامی کاروباری شخصیت ہامشو کے بیٹے اور خاندان کے دوسرے افراد بھی امریکا کی نئی پابندیوں کی زد میں آ گئے ہیں۔

مائیک پومپیو نے وضاحت کی ہے کہ نئے قانون کے تحت شامی عوام اور ان کے لیے انسانی امداد کو پابندیوں کا ہدف نہیں بنایا جائے گا۔اس کے علاوہ ان سے شمال مشرقی شام میں استحکام کے لیے ہماری سرگرمیوں پر کوئی فرق پڑے گا۔واشنگٹن نظام کے کنٹرول میں علاقوں میں بھی انسانی امداد جاری رکھے گا۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ جب تک بشارالاسد اور ان کا نظام شامی عوام کے خلاف ’’بلاضرورت‘‘سفاکانہ جنگ روک نہیں دیتا اور شامی حکومت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2254 کے تحت بحران کے سیاسی حل پر متفق نہیں ہوجاتی ہے،اس کے خلاف اقتصادی اور سیاسی دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔