.

ایران بھی ترکی کے نقشِ قدم پر ... شمالی عراق پر مسلسل دوسرے روز بم باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے نمائندے نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ ایران نے ایک بار پھر اربیل صوبے کے شمال میں سرحدی دیہات پر بم باری کی ہے۔ ایرانی گولہ باری میں حاج عمران قصبے کو نشانہ بنایا گیا۔

عراقی کرد نیوز نیٹ ورک "روداو" کے مطابق ایرانی بم باری کے ساتھ علاقے میں ترکی کے لڑاکا طیاروں کی پرواز جاری رہی۔ اس دوران ایرانی نظام کے مخالف دو کرد گروپوں کے مراکز کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ دونوں گروپ کردستان ڈٰیموکریٹک پارٹی اور الکوملہ انقلابی پارٹی ہے۔

ایرانی توپوں کے ذریعے علاقے میں زرعی دیہات کے اطراف گولہ باری کی گئی۔ اس کے نتیجے میں مقامی آبادی اپنے گھروں کو چھوڑ کر جنوبی علاقے کی سمت بھاگ نکلی۔

ایک باخبر کرد ذریعے نے العربیہ چینل کو بتایا کہ گذشتہ روز عراق کے صوبہ کردستان میں حاج عمران علاقے میں پہاڑی چوٹیوں پر کردوں کے ٹھکانوں پر ایرانی پاسداران انقلاب اور ترک جنگی طیاروں نے ایک ساتھ بم باری کی۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ بمباری کا سلسلہ منگل کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے شروع ہوا اور رات تک جاری رہا ہے۔ تاہم ان حملوں میں ہونے والے جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آسکی ہیں۔

ادھر ترکی نے بھی اعلان کیا ہے کہ اس نے کردستان ورکرز پارٹی کے باغیوں کے خلاف زمینی آپریشن کے سلسلے میں شمالی عراق میں اپنی اسپیشل فورسز تعینات کر دی ہیں۔ ترکی کی وزارت دفاع نے بدھ کے روز اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ "ٹائیگرز کلاؤ" آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ وزارت کی جانب سے مزید بتایا گیا کہ ترک کمانڈوز کے یونٹوں کے عناصر کو فضائیہ کے ذریعے علاقے میں پہنچایا گیا۔

یاد رہے کہ ترکی کے اس فوجی آپریشن کا مقصد انقرہ اور بغداد کے درمیان مزید کشیدگی کو جنم دینا ہے۔ عراق نے منگل کے روز ترکی کے سفیر کو طلب کر کے رواں ہفتے عراقی اراضی پر ترکی کے حملوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

اس سے قبل انقرہ نے اعلان کیا تھا کہ اس نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب عراق کے شمال میں واقع شہروں قنديل ، سنجار اورہاكورک پر حملے کیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں