.

ترکی کی جانب سے عراق کی خود مختاری کی پامالی بدستور جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے کُرد اکثریتی صوبے کردستان میں آج بدھ کے روز علی الصباح ترک فوج داخل ہوگئی۔ عراق کے صوبہ کردستان کے ضلع دھوک میں ترک فوج کی مداخلت عراق کی خود مختاری کی ایک اور خلاف ورزی تصور کی جا رہی ہے۔

کرد ذرائع نے العربیہ اور الحدث کے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ترک فوج نے صوبہ کردستان کے نواحی علاقوں میں وحشیانہ بمباری جاری رکھی ہوئی ہے۔

قبل ازیں عراقی فوج کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ 24 گھںٹوں کے دوران ترکی کے 18 طیاروں نے عراق کی فضائی حدود میں گھس کر کرد باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔ عراقی فوج نے ترکی کی فوجی مداخلت کو اشتعال انگیزی اور عراق کی سالمیت اور خود مختاری کی بار بار خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

کل منگل کو ترک فوج نے شمالی عراق کے العمادیہ کے مقام پر بمباری کی جس کے نتیجے میں کھیتوں میں کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا۔

مقامی ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ ترکی اور ایران نے مگل کے روز کردستان ورکرز پارٹی کے مراکز پر بمباری کی۔

خیال رہے کہ ایران اور ترکی پی کے کے نامی کرد تنظیم کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔ اس تنظیم کے مراکز ترکی ، ایران اور عراق کے صوبہ کردستان میں موجود ہیں۔

ایک باخبر کرد ذریعے نے العربیہ چینل کو بتایا کہ گذشتہ روز عراق کے صوبہ کردستان میں حاج عمران علاقے میں آلانہ پہاڑی چوٹیوں پر کردوں کے ٹھکانوں پر ایرانی پاسداران انقلاب اور ترک جنگی طیاروں نے ایک ساتھ بم باری کی۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ بمباری کا سلسلہ منگل کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے شروع ہوا اور رات تک جاری رہا ہے۔ تاہم ان حملوں میں ہونے والے جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آسکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں