.

شمالی عراق میں کردوں کے ساتھ جھڑپوں میں تُرک فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اتوار کے روز شمالی عراق میں کردوں کے ساتھ جھڑپوں کے دوران ایک ترکی فوجی ہلاک ہو گیا۔

وزارت دفاع کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ فوجی لڑائی کے دوران زخمی ہو گیا تھا اور بعد ازاں ہسپتال میں چل بسا۔

وزارت دفاع نے جھڑپوں کے مقام کا تعین نہیں کیا۔

کردوں کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہونے والا ترکی کا یہ دوسرا فوجی ہے۔ اس سے قبل جمعے کے روز بھی ایک ترک فوجی مارا گیا تھا۔

واضح رہے کہ عراق کی وزارت خارجہ نے اتوار کے روز بھی بغداد میں ترکی کے سفیر کو طلب کر کے شمالی عراق میں جاری آپریشن کے خلاف ایک احتجاجی یادداشت حوالے کی۔ یہ بات عراق کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے وزارت خارجہ کے ترجمان احمد الصحاف کے حوالے سے بتائی۔

وزارت خارجہ نے عراق کے اس اصولی موقف کو باور کرایا کہ وہ اپنی خود مختاری اور اپنی اراضی کی وحدت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں عراق اپنی نصرت کے لیے عالمی سلامتی کونسل اور بین الاقوامی تنظیموں سے درخواست کر سکتا ہے۔

عراق کی بھرپور مذمت کے باجود ترکی نے عراق کے شمالی علاقے میں اپنے فوجی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اتوار کے روز کارروائی میں ترکی کی فوج نے عراق کے ضلع زاخو میں سرحدی دیہات کو فضائی حملوں اور توپوں سے گولہ باری کا نشانہ بنایا۔

العربیہ کے نمائندے کے مطابق کئی روز سے جاری حملوں کے سبب سرحدی دیہات میں بسنے والے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

علاوہ ازیں بمباری میں دہوک صوبے میں نقل مکانی کرنے والے بے گھر افراد کے کیمپوں کے نزدیک ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

یاد رہے کہ ترکی کی وزارت دفاع نے گذشتہ ہفتے شمالی عراق میں ایک نیا فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ وزارت کے مطابق ترک کمانڈوز کے یونٹوں کے ارکان ہفتانین میں داخل ہو گئے تھے۔