.

صنعاء : حوثیوں کی کارستانیوں کے سبب خواتین قیدی خود کشیوں پر مجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حوثی ملیشیا کی جیلوں میں قید یمنی خواتین کو ان دنوں نئے المیے کا سامنا ہے۔

یمن میں انسانی حقوق کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ صنعاء کی جیلوں میں ابتر حالات کے پیش نظر خواتین قیدیوں کے بیچ خود کشی کی کوششوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

انسانی تجارت کے انسداد کے لیے یمنی نیٹ ورک کے سربراہ ایڈوکیٹ نبیل فاضل کے مطابق رواں ہفتے دو خواتین کو ہسپتال پہنچایا گیا جنہوں نے صنعاء کی مرکزی جیل میں خود کشی کی کوشش کی تھی۔ نبیل فاضل نے اپنے فیس بک پیج پر بتایا کہ دونوں خواتین اس وقت انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں ہیں۔

مذکورہ ایڈوکیٹ نے مزید بتایا کہ خواتین کی جیلوں کی ذمے دار افراح الحرازی اور جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ یہ گرفتاری اس معلومات کی بنیاد پر عمل میں آئی کہ یہ دونوں شخصیات ،،، خود کشی کرنے کی کوشش کرنے والی دو خواتین قیدیوں کو منشیات کی بھاری مقدار دینے میں ملوث ہیں۔ اس کے نتیجے میں دونوں خواتین اپنے ہوش کھو بیٹھیں۔

اس سے قبل حوثی ملیشیا نے اعلان کیا تھا کہ کچھ عرصہ قبل صنعاء کی مرکزی جیل میں خواتین کے قید خانے کے اندر ایک خاتون قیدی نے پراسرار حالات میں خود کشی کر لی۔ ملیشیا نے خاتون کے گھر والوں کو مجبور کر دیا کہ وہ تحقیقات مکمل ہونے سے قبل لاش کو دفنا دیں۔ اگرچہ ڈاکٹر نے یہ تصدیق کر دی تھی کہ خاتون کے جسم کے مختلف حصوں پر خراشیں پائی گئیں اور اس کی گردن بھی ٹوٹی ہوئی تھی۔ یہ امور درحقیقت خود کشی کے مفروضے کو مسترد کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ یمن کی آئینی حکومت میں انسانی حقوق کی وزارت نے گذشتہ سال کے اواخر میں انکشاف کیا تھا کہ باغی حوثی ملیشیا کی جیلوں میں اب بھی 320 کے قریب خواتین قید ہیں۔ مزید یہ کہ حکومت عالمی برادری کے ساتھ مل کر ان کی رہائی کے لیے پوری کوشش کر رہی ہے۔

وزارت انسانی حقوق نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ خواتین کی سپورٹ سے متعلق قرار داد 1325 پر عمل درامد کے لیے یمنی حکومت کی کوششوں کا ساتھ دے۔ وزارت نے قرار داد 2216 کی سپورٹ کی ضرورت پر بھی زور دیا تا کہ اس پر عمل درامد کے ذریعے یمن میں جنگ کے خاتمے اور امن کو یقینی بنایا جا سکے۔