.

رواں سال 65 برس سے کم عمر افراد کو حج کی اجازت ہو گی : سعودی وزیر صحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیر صحت توفیق الربیعہ نے باور کرایا ہے کہ رواں سال حج کو اندرون مملکت افراد تک محدود کرنے کا فیصلہ مسلمانوں کی سلامتی کے لیے کیا گیا ہے۔

منگل کے روز سعودی وزیر حج و عمرہ محمد صالح کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران الربیعہ نے کہا کہ رواں سال ان افراد کو حج کی اجازت ہو گی جن کی عمر 65 برس سے کم ہے اور وہ کسی دیرینہ مرض کا شکار نہیں ہیں۔

سعودی وزیر صحت نے واضح کیا کہ رواں سال حج سے قبل عازمین کا مکمل طبی معائنہ ہو گا اور حج کے فریضے کی ادائیگی کے بعد تمام حجاج کرام کو اپنے گھروں میں 14 روز کے لیے قرنطینہ میں رہنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کرونا کے متاثرین کی تعداد 90 لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے جب کہ کسی قسم کی ویکسین بھی موجود نہیں۔

الربیعہ کے مطابق رواں سال حج کے کارکنان اور خدام کا بھی کرونا ٹیسٹ ہو گا اور مناسک کے دوران ان کی نگرانی کی جاتی رہے گی۔

سعودی وزیر صحت نے انکشاف کیا کہ حج کے دوران کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط ہسپتال تیار کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں حج سیزن کے لیے خصوصی طبی پروٹوکولز کو بھی بہتر بنایا گیا ہے۔

پریس کانفرنس میں سعودی وزیر حج و عمرہ ڈاکٹر صالح البنتن نے کہا کہ "رواں سال حج کے لیے ہم نے خصوصی ایگزیکٹو پلان تیار کیے ہیں"۔

ڈاکٹر صالح نے رواں سال حج میں بیرون ملک سے حجاج کی شرکت کے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا خواہ انہوں نے کرونا کا معائنہ کرا بھی لیا ہو۔ صالح نے باور کرایا کہ اس حوالے سے کوئی استثنا نہیں دیا جائے گا۔

ڈاکٹر صالح کے مطابق حجاج کرام کی تعداد نہایت محدود ہو گی اور اندازہ ان کی تعداد دس ہزار سے تجاوز نہیں کرے گی۔

حجاج کرام کے چُناؤ کے معیار کے حوالے سے سعودی وزیر حج و عمرہ نے بتایا کہ "اس سلسلے میں ہم سفارتی مشنوں کے ساتھ رابطہ کاری میں رہیں گے تا کہ ان کے حجاج کرام کا اندارج ہو سکے"۔

ڈاکٹر صالح البنتن کے مطابق رواں سال حج کے دوران سماجی فاصلے اور بڑے ہجوم سے گریز کے اقدامات پر عمل درامد ہو گا۔