.

بیرونی مداخلت نے لیبیا کے بحران کو مزید گھمبیر کیا: عرب وزراء خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب ممالک کے منگل کے روز ہونے والے ورچوئل وزراء خارجہ اجلاس میں لیبیا میں ترکی کی فوجی مداخلت کی شدید مذمت کی ہے۔

اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ لیبیا کے معاملے میں بیرونی مداخلت نے معاملے کو مزید گھمبیر کیا ہے۔

بیان میں بیرون ملک سے عسکریت پسندوں کی لیبیا منتقلی کی بھی شدید مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ دوسرے ملکوں کی طرف سے لیبیا کے معاملے میں مداخلت قابل قبول نہیں۔

عرب وزراء خارجہ نے لیبیا میں تمام فریقین پر فوری جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے تنازع کے سیاسی اور پرامن حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے لیبیا کی بحران کے سیاسی حل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے لیبیا کی وحدت، سالمیت اور خود مختاری کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا۔

دریائے نیل کے پانی پر مصر اور ایتھوپیا سمیت دوسرے ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع پر عرب وزراء خارجہ کا کہنا تھا کہ نیل کے پانیوں کے معاملے میں تمام متعلقہ فریقوں کو مل کراتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔ کسی فریق کے لیے اس معاملے میں یک طرفہ اقدامات کی حمایت نہیں کی جائےگی۔

عرب لیگ کی وزراء خارجہ کے غیرمعمولی اجلاس سے خطاب میں مصری وزیرخارجہ سامح شکری نے کہا کہ مصری حکومت دہشت گردوں اور ان کے معاونت کاروں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی۔ انہوں نےلیبیا میں ترکی کی جانب سے جاری فوجی کارروائی اور جنگجوئوں کی فراہمی کی شدید مذمت کی۔

اجلاس سے خطاب میں متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے لیبیا میں تمام فریقین پر فوری جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کی طرف سے لیبیا میں فوجی مداخلت نہ صرف لیبیا بلکہ تمام عرب ممالک کی قومی سلامتی کوخطرے میں ڈال دیا ہے۔

عراق، لیبیا اور دوسرے ممالک کی طرف سے بھی عرب ممالک کے امور میں ترکی کی مداخلت کی مذمت کی گئی۔