لیبیا کی فوج کی سرت پر فضائی اور زمینی طور سے مکمل کنٹرول کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا میں جنرل خلیفہ حفتر کے زیر قیادت قومی فوج کے لڑاکا طیارے سرت شہر سے الہیشہ تک پھیلے ہوئے علاقے کو کلیئر کرا رہے ہیں۔ لیبیا کی فوج نے فائر بندی کے لیے ترکی کی شرائط کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ بات "العربیہ" اور "الحدث" نیوز چینلوں کے نمائندے نے بدھ کے روز بتائی۔

لیبیا کی فوج کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ مصراتہ شہر کے مشرق میں بھی فضائی اور زمینی طور پر حالات پوری طرح زیر کنٹرول ہیں۔

دوسری جانب روسی وزارت خارجہ کی ایک رپورٹ میں لیبیا میں روس کی عسکری موجودگی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ تاہم وزارت خارجہ کے مطابق یہ بات مشکوک ذرائع اور غیر درست معلومات کے حوالے سے بتائی گئی ہے۔ وزارت خارجہ نے اس بات کی تحقیق کا مطالبہ کیا ہے۔

اس سے قبل مئی میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں حوالہ دیا گیا تھا کہ عسکری ٹھیکوں سے متعلق روسی نجی کمپنی "ویگنر" کے لیبیا میں 1200 افراد موجود ہیں۔

روسی وزارت خارجہ کے ذمے دار پیٹر ایلشیف کا کہنا ہے کہ یہ بات واضح ہے کہ معلومات جعل سازی پر مبنی ہے .. اور رپورٹ جاری کرنے والے ماہرین کی کوشش ہے کہ خطے میں ماسکو کی پالیسی کی تصویر مسخ کی جائے۔

ادھر عرب الیگ نے لیبیا کے تنازع کے فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ ہتھیاروں کو ایک جانب رکھ کر مذاکرات کی میز پر آنے میں جلدی کریں تا کہ اس بحران کا حل سامنے آ سکے۔ عرب ممالک کے وزراء خارجہ کے اجلاس میں عرب لیگ کے سکریٹری جنرل احمد ابو الغیط نے کہا کہ لیبیا میں حل کے لیے فائر بندی اور بات چیت کی طرف واپس آنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات چیت اقوام متحدہ کی سرپرستی میں عرب لیگ کی سفارشات، برلن کانفرنس اور اعلانِ قاہرہ کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں