.

داعش کے مطلوب سربراہ کے سر کی انعامی قیمت دو گنا کر دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی سطح پر بالخصوص بین الاقوامی اتحاد اور امریکا کی جانب سے داعش تنظیم کے سربراہ کو پکڑنے کی کوششیں ابھی تک جاری ہیں۔ امریکا نے داعش تنظیم کے سربراہ کو پکڑنے میں معاون کسی بھی معلومات کی فراہمی کے عوض انعامی رقم کو دو گنا کر کے اسے ایک کروڑ ڈالر کر دیا ہے۔

بدھ کی شام امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امیر محمد سعید عبدالرحمن المولی نے "شمال مغربی عراق میں یزیدی مذہبی اقلیت کے افراد کے اغوا، ان کو ذبح کرنے اور ان کی تجارت کرنے میں مدد فراہم کی"۔

اسی طرح ٹویٹر پر سرکاری اکاؤنٹ کے ذریعے جاری ٹویٹ میں اعلان کیا گیا کہ حجی عبداللہ کے حوالے سے انعامی معاوضے کی رقم کو دوگنا کرتے ہوئے اسے 1 کروڑ ڈالر کر دیا گیا ہے۔

واشنگٹن نے رواں سال مارچ میں داعش تنظیم کے نئے سربراہ کو "بین الاقوامی دہشت گردوں" سے متعلق اپنی بلیک لسٹ میں شامل کر لیا تھا۔

یاد رہے کہ داعش تنظیم کا سربراہ ابو بکر البغدادی 2019 میں 26 اور 27 اکتوبر کی درمیانی شب شام کے شمال مغربی صوبے اِدلب میں ایک امریکی فوجی کارروائی میں ہلاک ہو گیا تھا۔ اسی ماہ کے آخر میں داعش نے سرکاری طور پر ابو ابراہیم الہاشمی القرشی کو البغدادی کا جاں نشیں مقرر کیا تھا۔

تاہم القرشی تجزیہ کاروں کے نزدیک معروف شخص نہیں ہے یہاں تک کہ ان میں سے بعض نے تو اس کے وجود پر ہی شکوک کا اظہار کیا ہے۔ اس وقت سے اب تک کئی مغربی انٹیلی جنس اداروں نے داعش کے حقیقی سربراہ کے طور پر امیر محمد سعید عبدالرحمن المولی کا تعین کیا ہے۔