.

نابینا مصوّرہ کی کہانی جس کو سعودی وزیر ثقافت نے "ہیرو" قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ایک نوجوان خاتون بینائی سے محروم ہونے کے باوجود خوب صورت فن پارے تشکیل دینے والی آرٹسٹ بننے میں کامیاب ہو گئی۔ خاتون کے تخلیقی اور امتیازی ذوق کے حامل فن پاروں نے سعودی وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن فرحان آل سعود کو بھی دادِ تحسین دینے پر مجبور کر دیا۔ شہزادہ بدر نے اپنی سرکاری اکاؤنٹ پر کی گئی ٹویٹ میں کہا کہ "نورہ حمود ایک ہیرو کی حیثیت رکھتی ہیں اور وہ سپورٹ کی مستحق ہیں ... وزارت ثقافت میں میرے ساتھی ان سے رابطہ کریں گے"۔

KSA:Blind Artist's work

نورہ کو بچپن میں ایک حادثے کے سبب اپنی بائیں آنکھ کی روشنی سے محروم ہونا پڑ گیا جب کہ دائیں آنکھ optic atrophy کا شکار ہو گئی۔ یہ حادثہ نورہ کے اندر موجود تخلیقی صلاحیت کو پروان چڑھنے سے نہ روک سکا۔ اس نے 9 برس کی عمر سے اپنے احساس اور تخیلات کو فن پاروں کی شکل دینا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ ایک وقت آیا کہ اس کی بنائی ہوئی پینٹنگز ہزاروں ریالوں میں فروخت ہوئیں۔ نورہ اپنی پینٹنگز کی نمائشوں میں آنے والے لوگوں کو اپنے فن سے حیران کر دیا۔ اس کے زیادہ تر فن پارے دو رنگوں سیاہ اور سفید پر مشتمل ہیں۔

KSA:Blind Artist's work

نورہ اب ایک ماہ میں تین سے پانچ فن پارے تیار کرتی ہے۔ وہ فطرتا مصورہ ہے جو اپنے تخیلات کو مختلف فن پاروں پر ڈھال دیتی ہے۔

KSA:Blind Artist's work

نورہ نمائش میں آنے والوں کے سامنے جب اپنے فن پاروں کی تفصیلات بیان کرتی ہے تو سننے والوں کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس فن پارے کو پوری طرح دیکھ رہی ہے جب کہ اسے کچھ نظر نہیں آ رہا ہوتا ہے۔

نورہ کے مطابق پینٹنگز بنانے سے پہلے وہ اپنے گھر کی دیواروں پر کوئلے سے تصاویر بنایا کرتی تھی۔ نورہ نے بتایا کہ اس کی والدہ نے اپنی بیٹی کے اندر چھپی صلاحیت کو بھانپ لیا اور اس کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔

KSA:Blind Artist's work

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے نورہ نے بتایا کہ وہ اپنے محسوسات اور تصورات کو رنگوں کی صورت میں فن پاروں کی شکل دیتی ہے۔ بعض مرتبہ وہ شخصیات کے چہروں کو اپنے ہاتھوں سے چُھو کر پھر پینٹنگ میں چہرے بناتی ہے۔ اس دوران پینٹنگ مکمل کرنے میں معمول سے کافی زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔ بسا اوقات نورہ کے گرد لوگ ہوتے ہیں جو رنگوں کے انتخاب میں اس کی معاونت کرتے ہیں۔ نورہ انتہائی برق رفتاری سے اپنا موبائل فون استعمال کرتی ہے۔ وہ نابینا افراد کے لیے خصوصی پروگراموں کے ذریعے وڈیو کلپوں کا انتخاب بھی کر لیتی ہے اور اس کے لیے کسی کی مدد نہیں لیتی۔