.

قطر حماس ہی نہیں بلکہ طیب ایردوآن کی بھی مالی مدد کر رہا ہے:اسرائیلی اخبار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے ایک موقر اخبار مکور راشون نے دعویٰ کیا ہے کہ قطری حکومت نہ صرف رام اللہ اتھارٹی کے خلاف حماس کی مالی مدد کررہی ہے بلکہ دوحا حکومت ترک کو بھی رقوم کی شکل میں مدد فراہم کررہی ہے۔

اخبار نے بتایا ہے کہ اسرائیل میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ قطر کی حکومت فلسطین کے علاقے غزہ میں اخوان المسلمون کی مقرب حماس کی حکومت کا اقتدار بچانے کے لیے اس کی مالی مدد کرر ہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قطری حکومت لیبیا میں اخوان کی حمایت یافتہ فائز السراج کی حکومت بھی مالی مدد فراہم کررہی ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوآن جن کا مقصد اخوان کے محور کی قیادت کرنا ہےلیبیا میں لڑائی میں ملوث رہے ہیں۔ امیر قطر اور ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے درمیان ٹیلیفون کال سے پتا چلتا ہے کہ صدر ایردوآن نے لیبیا میں لڑائی جاری رکھنے کے لیے قطر سے بھاری رقم فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایک سابق ترک سفارت کار نے کہا کہ دونوں رہ نمائوں کے مابین بات چیت کی بنیاد صرف مالی پہلو تھی۔ اردوآن نے قطر سے لیبیا اور شام میں ترکی کی فوجی کامیابیوں اور اقدامات کو محفوظ رکھنے کے لیے فنڈز کی منتقلی کا مطالبہ کیا۔

ترک سفارتکار نے مزید کہا کہ قطری فنڈز جنگوں کی مالی اعانت کے لیے ضروری ہیں۔ خاص طور پر جب ترکی مالی بحران سے گذر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں لگاتار مالی بحرانوں کی وجہ سے ترکی مالی بوجھ برداشت نہیں کرسکتا۔ سیاحت میں کمی واقع ہوئی ہے جو آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ حالیہ مہینوں میں ترکی کی کرنسی کی قیمت میں بھی کمی آئی ہے۔