.

دباؤ اور کرونا کے سبب یہ ایران کے لیے مشکل ترین سال ہے: روحانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ دباؤ اور کرونا وائرس کے سبب یہ سال ہمارے لیے مشکل ترین سال ہے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی چینل العالم کے مطابق اتوار کے روز اپنے بیان میں روحانی نے مزید کہا کہ "آج وقت اس بات کے لیے مناسب نہیں کہ ایران میں تینوں قوتوں کے درمیان اختلاف ہو بلکہ ہمیں چاہیے کہ ایک دوسرے کی مدد کریں۔ ہمارے 6 صوبے تشویش ناک حال میں ہیں اور ملک کے تمام صوبوں کو اس وائرس کا گڑھ بننے کا خطرہ ہے"۔

ادھر ایران کے نائب وزیر صحت علی رضا رئیسی کا کہنا ہے کہ "قُم اور جیلان صوبے کی 40% آبادی کرونا وائرس سے متاثر ہو چکی ہے جب کہ تہران میں یہ تناسب تقریبا 15% ہے"۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ صرف تہران میں ہی اس وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 لاکھ سے زیادہ ہے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی "اِرنا" کے مطابق بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں رئیسی کا کہنا تھا کہ دیگر صوبوں میں 4 سے 5% آبادی وائرس سے متاثر ہو چکی ہے۔

ایرانی نائب وزیر صحت نے زور دے کر کہا کہ اقتصادی پابندیوں اور لوگوں کو درپیش معاشی مسائل کے سبب ملک میں لاک ڈاؤن جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔

وزارت صحت میں منعقد ایک وڈیو کانفرنس کے دوران رئیسی نے عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ صحت اور صفائی کے متعین اصولوں کی پابندی کریں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دنوں میں عوامی مقامات پر حفاظتی ماسک کا استعمال لازمی ہو جائے گا۔