.

عراق: امریکی فوجی اڈوں پر راکٹ حملوں میں ملوث حزب اللہ عناصر کی گرفتاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں ذرائع نے بتایا ہے کہ مسلح افواج کی انسداد دہشت گردی فورس نے گذشتہ جمعرات کو حزب اللہ بریگیڈ کے متعدد عناصر کو حراست میں لیا ہے۔ ان پر عراق میں امریکی فوجی اڈوں اور حکومتی تنصیبات پر میزائلوں اور راکٹوں سے حملوں کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراق میں ذرائع ابلاغ اور عوام کی توجہ اس وقت حزب اللہ بریگیڈ کے عناصر کے گرفتاری پرمرکوز ہے۔

عراقی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر یحییٰ رسول نے العربیہ اورالحدث ٹی وی چینلوں کو بتایا کہ حزب اللہ بریگیڈ کے کم سے کم 14 عناصر کو راکٹ حملوں کے شبے میں پکڑا گیا ہے اور وہ ابھی تک فوج کی تحویل میں ہیں۔ انہیں عدالت میں پیش کیا جائےگا۔

دوسری طرف عراقی فوج پر حزب اللہ بریگیڈ کے ارکان کی گرفتاری کے بعد ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کی طرف سے مسلسل دبائو ڈالا جا رہا ہے۔ ایرانی حمایت یافتہ گروپ تحریک النجبا اور دیگر تنظیموں نے فوج پر زور دیا ہے کہ وہ حراست میں لیے گئے تمام جنگجوئوں کو فورا رہا کرے۔

تاہم فوج نے ایرانی حمایت یافتہ عناصر کی طرف سے دبائو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلح افواج دستور کے مطابق ملک میں قانون کی رٹ قائم کرنے کے لیے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں پوری کرے گی۔ فوج کا کہنا تھا کہ مسلح افواج کےکمانڈر ان چیف مصطفیٰ الکاظمی نے سیکیورٹی اداروں کو عسکریت پسند عناصر کے خلاف کارروائیوں کے لیے مکمل اختیارات دیے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ کچھ عرصے سے عراق میں امریکی فوجی اڈوں اور حکومت تنصیبات پر میزائل اور راکٹ حملے کیے جاتے رہے ہیں۔ان حملوں کا الزام ایرانی حمایت یافتہ گروپوں پرعاید کیا جاتا ہے۔ عراق میں امریکی سفارت خانے اور گرین زون میں ہونے والے بار بار کے راکٹ حملوں کے بعد وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی نے فوج اور سیکیورٹی اداروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ ان حملوں کی روک تھام کے لیے اقدامات کریں اور راکٹ حملوں کے پیچھے چھپے عناصر کا پتا چلایا جائے۔