.

میں نے دو افراد کا قتل کیا لیکن تب آرمی چیف میشیل عون نے مجھے بچالیا: لبنانی وزیرداخلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے موجودہ وزیر داخلہ محمد فہمی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے ملک میں خانہ جنگی کے زمانے میں دو افراد کو قتل کیا تھا لیکن اس وقت (موجودہ صدر) میشیل عون نے انھیں تحفظ فراہم کیا تھا اور کسی قسم کی انتقامی کارروائی یا قانونی چارہ جوئی سے بچا لیا تھا۔

محمد فہمی نے اس انٹرویو میں لبنان میں 1975ء سے 1990ء تک خانہ جنگی کے زمانے میں پیش آنے والے بعض واقعات کی تفصیل بیان کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ میشیل عون 1981ء میں ان کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور تب ان دونوں کے درمیان ایک طرح کا روحانی رشتہ موجود تھا۔

یہ انٹرویو لبنان کے ایک تھنک ٹینک کارنیگی مڈل ایسٹ کی ڈائریکٹر ماہا یحییٰ نے ٹویٹر پر شیئر کیا ہے۔ اس میں لبنانی وزیر داخلہ کہتے ہیں:’’میں نے دو افراد کو قتل کردیا تھا اور تب پارٹی میں جھگڑا چل رہا تھا۔البتہ پارٹی حقیقی معنوں میں مضبوط تھی۔میشیل عون نے مجھے اپنے دفتر میں بُلا بھیجا۔‘‘

وہ مجھ سے یوں گویا:’’محمد! سنو جب تک میں زندہ ہوں آپ کا کوئی کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔ یہ میشیل عون کا وعدہ ہے۔‘‘

میشیل عون 1981ء میں بریگیڈئیر جنرل تھے اور لبنانی فوج کی آٹھویں بٹالین کے انچارج تھے۔1984ء میں انھیں پوری لبنانی فوج کا سربراہ بنا دیا گیا تھا۔وہ شامی فوج کے خلاف 1989-1990ء میں آزادی کی جنگ ہارنے کے بعد آرمی چیف کے عہدے سبکدوش ہوگئے تھے اور ملک سے راہ فرار اختیار کرگئے تھے۔

وہ 2005ء میں شامی فوج کے لبنان سے انخلا کے بعد ملک میں لوٹے تھے۔انھوں نے پھر سیاست میں قدم رکھا اور فری پیٹریاٹک موومنٹ کے نام سے جماعت تشکیل دی۔اس کا سربراہ انھوں نے اپنے بیٹے جبران باسیل کو بنایا تھا۔

میشیل عون 2016ء میں لبنان کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ان کی کامیابی حزب اللہ کے ساتھ اتحاد کی مرہون منت تھی۔انھوں نے حزب اللہ سے مل کر مارچ 8 کے نام سے سیاسی اتحاد تشکیل دیا تھا۔یہ اتحاد موجودہ وزیراعظم حسان دیاب کے زیر قیادت کابینہ میں شامل ہے اور اس میں محمد فہمی حزب اللہ کی نمایندگی کرتے ہیں۔

جنوری میں ان کے تقرر کے وقت لبنانی مرکز برائے پالیسی مطالعات میں ایک محقق ندیم الحاک نے کہا تھا:’’ یہ افواہیں گردش کررہی ہیں کہ شامی صدر بشارالاسد کے سکیورٹی مشیر نے حزب اللہ سے کہا تھا کہ محمد فہمی کا نام وزیر داخلہ کے طور پر پیش کیا جائے۔‘‘ان کا نام لبنان کے بلوم بنک میں بدعنوانیوں کے ضمن میں لیا جاتا رہا تھا۔اس بنک نے لبنانی عوام کو ان کی جمع پونجی لوٹانے سے انکار کردیا تھا۔