.

ایرانی نظام دینی ہے اور نہ ہی انقلابی ہے: فائزہ ہاشمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کی صاحب زادی اور سرکردہ خاتون رہ نما فائزہ ہاشمی نےایران کے موجودہ ولایت فقہیہ کے نظام پر کڑی تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ ایرانی نظام دینی ہے اور نہ ہی انقلابی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمومی نظریات موقع پرستی اور حالات سے فایدہ اٹھانے کا ایک ذریعہ بن چکےہیں۔

منگل کے روز امریکا کی اسٹانفورڈ یونیورسٹی کے زیراہتمام ایران اسٹڈی سینٹر کے ایک وچورئل پروگرام میں بات کرتے ہوئے فائزہ ہاشمی نے کہا کہ موجودہ ایرانی نظام نہ تو دینی ہے اور نہ ہی انقلابی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومتیں نظریات کےدفاع کی صلاحیت نہیں رکھتیں کیونکہ نظریات موقعے سے فایدہ اٹھانے کا ایک ذریعہ بن چکےہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کئی سال پہلے ہی ایرانی رجیم کےہاتھ سے بہت سے معاملات نکل گئے تھے۔

سابق خاتون رکن پارلیمنٹ فائزہ ہاشمی نے ایرانی رجیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام بھی وہی غلطیاں کررہا ہے جو اس سے قبل بادشات کے دور میں کی جاتی تھیں۔ ایران میں تشدد، امتیازی سلوک، خواتین پر دبائو میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جبری حجاب ایرانی رجیم کی ابتدائی غلطی تھی۔

فائزہ ہاشمی نے کہا کہ میں روایتی حجاب کرتی ہوں۔ میرے لیےحجاب کرنے میں کوئی دشواری نہیں مگر میں جبری حجاب سے سخت خلاف ہوں۔ میں محسوس کرتی ہوں کہ جو غلطی رضا شاہ پہلوی نے کہ وہی غلطی موجودہ رجیم بھی کررہی ہے۔