.

امریکیوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ اوباما کے دور سے شروع ہوا: طالبان کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان طالبان تحریک نے امریکی اخبار New York Times کی رپورٹ کے حوالے سے دھماکا خیز انکشاف کیا ہے۔ اخبار کی رپورٹ میں دعوی کیا گیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس بات کا علم تھا کہ روس نے طالبان تحریک کو مالی رقوم ادا کیں تا کہ وہ امریکی فوجیوں کو نشانہ بنا کر انہیں ہلاک کریں۔

طالبان تحریک کے سابق ترجمان ملا منان نیاز (یہ ملا عمر کے دور میں تحریک کے سرکاری ترجمان تھے) کے مطابق روس کی جانب سے معاوضوں کا سلسلہ 2014 سے یعنی ٹرمپ کے صدر بننے سے دو برس قبل سابق صدر باراک اوباما کے دور سے شروع ہو گیا تھا۔

انگریزی اخبار The Daily Beast کو دیے گئے بیان میں ملا منان نیاز نے بتایا کہ "روسی انٹیلی جنس نے افغانستان میں امریکی افواج اور داعش پر حملے کرنے کے لیے طالبان تحریک کو مالی رقوم کی ادائیگی 2014 سے شروع کی تھی اور یہ سلسلہ اب تک چل رہا ہے"۔

افغان طالبان کے لیے روسی امداد کے حوالے سے امریکی انٹیلی جنس کی ایک رپورٹ گذشتہ چند روز کے دوران امریکی قومی سلامتی کے تمام اداروں میں گردش میں رہی۔ اس رپورٹ کو پڑھنے والے تین افراد نے بتایا کہ رپورٹ میں کئی برس کا جائزہ لیا گیا ہے جن کے دوران روس نے افغان طالبان کو مختلف نوعیت کی امداد پیش کی۔ اس میں مالی معاونت بھی شامل ہے۔

امریکی ریپبلکن سینیٹر مارکو روبیو نے صدر ٹرمپ کے خلاف ڈیموکریٹس کے حرکت میں آنے پر کڑی تنقید کی ہے۔ اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر روبیو نے کہا کہ "یہ کھلا تضاد ہے کہ اب جو لوگ نیویارک ٹائمز کی حالیہ رپورٹ کو سیاسی رنگ دے رہے ہیں، ان میں سے کئی لوگوں نے اس بات کے واضح ثبوتوں کی مخالفت کی تھی یا ان کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کی تھی کہ قاسم سلیمانی امریکی افواج کو نشانہ بنانے یا قتل کرنے کے حوالے سے بھرپور ریکارڈ رکھتا ہے"۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر کے روز اپنی ٹویٹ میں کہہ چکے ہیں کہ "امریکی انٹیلی جنس مجھے آگاہ کر چکی ہے کہ یہ معلومات سچائی پر مبنی نہیں ہیں. یہ اسی طرح من گھڑت کہانی ہے جیسا کہ انتخابات میں روسی مداخلت کے دعوؤں سے متعلق بنائی گئی تھی۔ نیویارک ٹائمز کی من گھڑت خبریں جو چاہتے ہیں کہ ریپبلکنز کی خراب تصویر نظر آئے!"۔

امریکی اخبار New York Times ابتدا میں یہ ذکر کیا تھا کہ امریکی انٹیلی جنس کے ذمے دارن یہ سمجھتے ہیں کہ روسی عسکری یونٹ نے افغان طالبان سے روابط رکھنے والے مسلح عناصر کو معاوضے پیش کیے تھے جن کا مقصد امریکی فوجیوں سمیت اتحادی افواج کو نشانہ بنانا اور ہلاک کرنا تھا"۔

اسی طرح دو دیگر اخبارات Wall Street Journal اور Washington Post نے بھی مغربی افواج پر حملے کروانے کے حوالے سے کرملن ہاؤس کی کوششوں کا ذکر کیا تھا۔ اس رپورٹ نے امریکا کے اندر بھونچال پیدا کر دیا۔