.

عراق : دہوک میں متعدد علاقوں پر ترکی کے لڑاکا طیاروں کے حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے لڑاکا طیاروں نے عراقی کردستان کے صوبے دہوک میں متعدد علاقوں پر بم باری کی ہے۔ ترک فضائیہ کے طیاروں نے صوبے میں جبل خامتیر کے اطراف ٹھکانوں پر 4 میزائل داغے۔

تقریبا ایک ہفتہ قبل ترکی کے لڑاکا طیاروں نے دہوک صوبے کے شمال میں واقع سرحدی گاؤں "بيرسيفی" میں ٹھکانوں پر حملے کیے تھے۔ اس دوران یزیدی پناہ گزینوں کے کیمپوں کے نزدیک مقامات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس کے بعد عراقی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر بشیر الحداد نے ترکی کی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ عراقی کردستان میں سرحدی علاقوں پر بم باری کا سلسلہ روک دے۔ الحداد کے مطابق ترکی کی عسکری مداخلت علاقے میں کشیدگی میں اضاافہ کرے گی اور دونوں ملکوں کے بیچ تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

عراقی وزارت خارجہ کے ترجمان احمد الصحاف نے گذشتہ روز کہا تھا کہ "یک طرفہ کارروائیوں سے امن مضبوط نہیں ہو گا اور نہ اس طرح دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی کوششیں بارآور ثابت ہوں گی ،،، خود مختاری کی پامالی کا جواب دینے کے لیے عراق کے سامنے تمام آپشنز موجود ہیں"۔

روسی خبر رساں ایجنسی اسپٹنک سے گفتگو کرتے ہوئے الصحاف نے کہا کہ "ہم نے مذمتی بیان سے آغاز کیا، اس کے بعد احتجاجی یادداشت پیش کی، ترکی کے سفیر کو طلب کیا اور اسی طرح ایرانی سفیر کو بھی ،،، ہم ان اقدامات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عرب لیگ اور اسلامی کانفنرس تنظیم کے پلیٹ فارمز کے ذریعے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل تک اس معاملے کو پہنچا سکتے ہیں"۔

عراق کی جانب سے بارہا مذمت کے باوجود ترکی نے گذشتہ ہفتے دونوں ملکوں کے بیچ سرحدی علاقوں پر بم باری کی۔ عراق نے ان خلاف ورزیوں کا سلسلہ روکے جانے کی ضرورت پر زور دیا ہے جنہوں نے عراق کی قومی خود مختاری کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ترکی کی جانب سے عسکری کارروائیوں کے دوران عراقی فضائی حدود کی بار بار خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

متعدد نہتے شہری بھی ترکی کی ان کارروائیوں کا نشانہ بنے ہیں۔