.

ایران کی یمن اور صومالیہ کے سمندر میں بحری قذاقی، مچھلی کی بھاری مقدار چوری کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک بین الاقوامی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ایرانی بحری جہازوں کے ایک بیڑے نے یمن اور صومالیہ کے ساحل سے کے قریب سب سے بڑی غیر قانونی ماہی گیری کی کاروائی کی ہے۔

دو بین الاقوامی تنظیموں نے ایک حالیہ مشترکہ رپورٹ میں کہا ہے کہ صومالیہ اور یمن دونوں کے پانیوں میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی ماہی گیری کی کاروائیاں ہو رہی ہیں۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے ایران کی جانب سے کی جانےوالی ماہی گیری کی غیرقانونی کارروائی دنیا میں سب سے بڑی غیر قانونی ماہی گیری ہے۔

عالمی ماہی گیری اور واچ (جی ایف ڈبلیو) کے مطابق عالمی ماہی گیری کے جہازوں کی نگرانی اور ان کا سراغ لگانے میں مہارت رکھنے والی تنظیموں کے مطابق اور ٹریگ میٹ ٹری (ٹی ایم ٹی) کے مطابق سال 2019ء اور 2020ء کے ماہی گیری سیزن میں 200 کے قریب ماہی گیری جہازوں یمن اور صومالیہ کے پانیوں میں غیرقانونی ماہی گیری کرتے دیکھا گیا ہے۔

تنظیم نے صومالی حکومت اور متعلقہ ممالک کو پیش کی گئی رپورٹ میں شامل شواہد میں کہا ہے کہ بحر ہند کے شمال مغرب (صومالی اور یمنی ساحل پر ، خاص طور پر ارخبیل اسقطری جزیرے ) میں ایرانی بیڑے میں کم از کم 192 بحری جہازوں کو دیکھا گیا۔

خود کارطریقے سے بحری جہازوں کی نقل وحرکت کے نظام AIS کا استعمال کرتے ہوئے یمن کے پانیوں میں سال دو ہزار انیس اور دو ہزار بیس کے ماہی گیری سیزن میں ایران کی 144 کشتیوں اور جہازوں کو دیکھا گیا۔

اس رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ایرانی جہازغیر قانونی طور پرمچھلیاں پکڑنے میں مشغول ہیں اور صومالیہ یا یمن سے اس سلسلے میں اجازت نامے حاصل نہیں کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایرانی بحری جہازوں نے "تونا جیسی مچھلیوں کا بڑے پیمانے پر شکار شروع کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں