.

شام : اسدی فورسز اور داعش میں جھڑپیں ،40 متحارب جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں اسدی رجیم کی فورسز اور داعش کے درمیان گذشتہ 48 گھنٹے میں جھڑپوں میں 40 سے زیادہ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ وسطی صوبہ حمص میں جمعرات کی شب سے متحارب فورسز میں لڑائی جاری ہے اور روس کے لڑاکا طیاروں نے بھی داعش کے جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔اس لڑائی میں ہفتے کی سہ پہر تک حکومت نواز 18 جنگجو اور 28 انتہا پسند مارے گئے ہیں۔

رصدگاہ کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ ''حمص میں واقع قصبے السخنہ میں جمعرات کی شب لڑائی شروع ہوئی تھی۔پہلے داعش کے جنگجوؤں نے اسدی فورسز کے ٹھکانوں پر حملہ کیا تھا۔

داعش کے جنگجو گذشتہ سال شام میں اپنے زیر قبضہ علاقے چھن جانے کے بعد اب وسیع وعریض بادیہ صحرا میں دوبارہ منظم ہورہے ہیں۔وہ اس علاقے میں گاہے گاہے شامی فوج یا اس کے اتحادی جنگجوؤں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

شام میں 2011ء سے جاری جنگ میں اب تک تین لاکھ 80 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں۔تب خانہ جنگی کا آغاز صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے پُرامن مظاہرین پر سخت کریک ڈاؤن سے ہوا تھا۔

اسدی فوج نے اس پُرامن احتجاجی تحریک کو کچلنے کے لیے ریاستی طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا تھا۔اس کے ردعمل میں حکومت مخالف نوجوانوں نے ہتھیار اٹھا لیے تھے اور شامی فوج کی کثیر تعداد بھی بغاوت کرکے ان کے ساتھ مل گئی تھی۔اس دوران میں عراق سے داعش اور دوسرے مسلح گروپ بھی در آئے تھے اور بڑی طاقتوں اور علاقائی ممالک نے بھی متحارب فریقوں کی حمایت میں مداخلت شروع کردی تھی جس کے نتیجے میں خانہ جنگی ایک مکمل جنگ میں تبدیل ہوکررہ گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں