.

’یہ ضروری نہیں‘اسرائیل کا ایران کی جوہری تنصیبات کے واقعات میں ہاتھ کارفرما ہو:بینی گینز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے وزیردفاع بینی گینز نے کہا ہے کہ یہ ضروری نہیں،ایران کی جوہری تنصیبات میں رونما ہونے والے تمام پُراسرار واقعات میں صہیونی ریاست ہی کا ہاتھ کارفرما ہو۔

انھوں نے یہ وضاحتی بیان ایران کے بعض عہدے داروں کے اس الزام کے بعد جاری کیا ہے کہ نطنز میں واقع جوہری تنصیب میں آتش زدگی کا واقعہ اسرائیل کے سائبر حملے کا نتیجہ ہے۔

اسرائیل کے بارے میں یہ یقین کیا جاتا ہے کہ وہ خطے کی واحد غیرعلانیہ جوہری طاقت ہے اور وہ ایک سے زیادہ مرتبہ اس عزم کا اظہار کرچکا ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دے گا کیونکہ اس کے بہ قول ایران صہیونی ریاست کو دنیا کے نقشے سے مٹانا چاہتا ہے۔ایران ایسے دعووں کی تردید کرچکا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے بلکہ اس کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔

ایران کی نطنز میں واقع زیر زمین جوہری تنصیب کے اوپر واقع ایک منزلہ عمارت میں گذشتہ جمعرات کو ایک دھماکا ہوا تھا اور پھر آگ بھڑک اٹھی تھی۔ ایران کی جوہری توانائی ایجنسی نے بعد میں ایک تصویر جاری کی تھی۔اس میں اینٹوں سے بنی ایک عمارت میں سیاہ نشانات دیکھے جاسکتے ہیں،اس کی چھت اڑی ہوئی ہے،اس کا ملبہ زمین پر ہے، دروازہ اکھڑ اور ٹوٹ چکا ہے جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ عمارت میں دھماکے کے بعد آگ لگی تھی۔

اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینز سے اتوار کو جب ایران کی جوہری تنصیبات میں پُراسرار دھماکوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا:’’ ایران میں رونما ہونے والے ہر واقعے کا ضروری نہیں کہ ہم سے کچھ علاقہ ہو‘‘۔

انھوں نے اسرائیلی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ تمام نظام کمپلیکس ہیں۔ان کے تحفظ کے بہت اعلیٰ سطح کے کنٹرول ہیں اور مجھے نہیں یقین کہ وہ انھیں ہمیشہ برقرار رکھنے کے بارے میں کچھ جانتے ہوں۔‘‘

ایران کے تین عہدے داروں نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں نطنز میں سائبر تخریب کاری کی گئی ہے لیکن انھوں نے اس کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔ دو کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا ان حملوں میں ہاتھ کارفرما ہوسکتا ہے۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کے ایک مضمون میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ اسرائیل اور امریکا ایسے دشمنوں کی کارستانی ہوسکتی ہے لیکن اس میں ان دونوں ممالک پر براہ راست الزام عاید نہیں کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ 2010ء میں نطنز کے کمپیوٹر نظام پر سٹکس نیٹ وائرس سے حملہ کیا گیا تھا۔اس وائرس کے بارے میں یہ یقین ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ امریکا اور اسرائیل نے تیار کیا تھا۔

گذشتہ ماہ اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کے وزیر زیف ایلکن نے کہا تھا کہ ایران نے اپریل میں اسرائیل کے آبی نظام پر سائبر حملے کی کوشش کی تھی۔

واضح رہے کہ ایران کا دارالحکومت تہران سے قریباً ڈھائی سو کلومیٹر جنوب میں واقع نطنز میں یورینیم کو افزودہ کرنے کا زیر زمین بڑا مرکز ہے۔یہ سطح زمین سے پچیس فٹ گہرائی میں کنکریٹ سے بنا ہوا ہے اور اس وجہ سے اس کو فضائی حملوں سے تحفظ مہیا کیا جاسکتا ہے۔

ویانا میں قائم جوہری توانائی کا عالمی ادارہ ایران اور چھے عالمی طاقتوں کے درمیان 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کے تحت اس تنصیب کی بھی نگرانی کررہا ہے۔اس ادارے نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’وہ نطنزمیں آگ سے متعلق اطلاعات سے آگاہ ہے اور ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ اس سے آئی اے ای اے کی ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تصدیقی سرگرمیوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘‘