.

لیبیا : بھاری نقصان کے بعد ترکی کی فوج کا الوطیہ کے فوجی اڈے سے انخلا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں مقامی ذرائع نے العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کو بتایا ہے کہ ترکی کی فوج کی بڑی تعداد دارالحکومت طرابلس کے مغرب میں 140 کلو میٹر دور واقع الوطیہ کے فوجی اڈے سے کوچ کر گئی ہے۔ اس سے قبل لیبیا کی فوج نے تصدیق کی تھی کہ مذکورہ فوجی اڈے پر حملے میں ترکی کی فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ اس حوالے سے انقرہ حکومت نے ترکی کے فضائی دفاع کا نظام تباہ ہونے کا اقرار بھی کیا ہے۔

لیبیا کی فوج کے ایک سینئر عہدے دار بریگیڈیئر جنرل خالد المحجوب نے اتوار کی شام بتایا کہ اسی نوعیت کی دیگر ضربیں جلد ہی الوطیہ کے فوجی اڈے پر لگائی جائیں گی۔ العربیہ کے ساتھ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ "ہم ترکی کے ساتھ ایک حقیقی جنگ میں ہیں جس کی نظریں لیبیا میں تیل پر مرکوز ہیں"۔

المحجوب نے انکشاف کیا کہ الوطیہ کے فوجی اڈے میں ترکی کے ریڈاروں اور دفاع نظاموں کو بم باری کا نشانہ بنایا گیا۔ مزید برآں تیل کے علاقے الہلال کے راستے میں ایک فوجی قافلے پر بھی حملہ کیا گیا۔ المحجوب کے مطابق ساز و سامان کے حوالے سے ترکی کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ الوطیہ کے فوجی اڈے پر کاری اور تکلیف دہ ضرب لگائی گئی۔ اس دوران اڈے پر 9 حملے کیے گئے۔

ادھر ترکی کے اعلی سطح کے ایک ذمے دار نے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے بم باری اور مادی نقصان واقع ہونے کی تصدیق کی تاہم جانی نقصان کا ذکر نہیں کیا۔

فرانس پریس ایجنسی کے مطابق مذکورہ ذمے دار نے کہا کہ الوطیہ کے فوجی اڈے پر ہونے والا یہ حملہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ جب تک بعض بین الاقوامی فریقوں کی جانب سے لیبیا کی فوج کے قائد خلیفہ حفتر کی سپورٹ جاری رہے گی اس وقت تک لیبیا میں عدم استحکام میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

یاد رہے کہ گذشتہ برس طرابلس اور انقرہ کے درمیان سکیورٹی اور عسکری امور سے متعلق مفاہمتی یادداشت دستخط ہونے کے بعد سے لیبیا میں ترکی کی عسکری سرگرمیاں اور وجود بڑھ گیا ہے۔

انقرہ کی حمایت یافتہ وفاق حکومت کے زیر انتظام گروپوں اور ملیشیاؤں نے مئی کے مہینے میں تونس کی سرحد کے نزدیک واقع تزویراتی اہمیت کے حامل الوطیہ کے فضائی اڈے کو واپس لے لیا تھا۔ اس سے قبل ان ملیشیاؤں نے دو ماہ تک اڈے کا محاصرہ اور اس پر بھرپور فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔