.

تجارت اورمنی لانڈرنگ کی آڑ میں پاسداران انقلاب کی وینزویلا میں مداخلت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور وینزویلا دونوں امریکا کی طرف سے اقتصادی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کی وینزویلا میں مداخلت میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ پاسداران انقلاب تجارت، کاروبار اور دیگر سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ وینز ویلا میں منی لانڈرنگ کررہا ہے۔ اس طرح ایرانی پاسداران انقلاب کی ایران میں دست درازی اور مداخلت مسلسل گہری ہوتی جا رہی ہے۔

اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب اور میزائل پروگرام سےمربوط ایک بلاک نے اسپیئر پارٹس کے کاروبار کی شکل میں وینزویلا میں مداخلت شروع کی۔ وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کے ایران کے ساتھ اتحاد نے پاسداران انقلاب کو وینزویلا میں اپنے پنجےگاڑنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

ایران کی ایک تجارتی کمپنی وینزویلا میں ایمرجنسی فوڈ پروگرام کے شعبے میں کام کررہی ہے۔ یہ کمپنی امریکا کی اقتصادی پابندیوں کا شکار ہونے والی کمپنیوں کی فہرست میں شامل ہے۔ امریکا اس کمپنی پر منی لانڈرنگ کا الزام عاید کرتا رہا ہے۔

اکیس جون ایران کا ایک بحری جہاز غذائی سامان لے کر کی بندرگاہ پر پہنچا۔ اگرچہ ایران کی طرف سے وینزویلا کو غذائی سامان کی فراہمی کا یہ پہلا موقع نہیں مگر اس جہاز میں پہلی بار بھاری مقدار میں غذائی سامنا اور دیگر عام استعمال کی اشیا وینزویلا پہنچائی گئیں۔ اس طرح یہ پہلا موقع ہے کہ لاطینی امریکا میں ایران کی پہلی بڑی سپرمارکیٹ وجود میں آئی ہے۔ کراکس میں متعین ایرانی سفیر حجۃ اللہ سلطانی نے ایران سے غذائی اشیا پہنچائے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب وینزویلا میں ایرانی سامان کی سپر مارکیٹ بنے گا۔

وینزویلا کی ایک کاروباری وین سائٹ کے سابق منتظم اور ایمرجنسی فوڈ پروگرام کے اہم عہدے پر تعینات رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ وینزویلا میں ایک سیکیورٹی کمپنی بھی چلا چکے ہیں جس کے نام کے پہلے حروف Clap بتائے جاتے ہیں۔ حالیہ ایام میں یہ ویب سائٹ ایرانی فوج کی مصنوعات کی علامت والی اشیا کے اشتہارات چلا رہی ہے۔ ان میں ایرانی فوج کی ملکیتی کمپنی Delnoosh کی مصنوعات بھی شامل ہیں۔

وینزویلا میں سرگرم ایرانی کاروباری بلاک میں Ekta کی ماتحت دو کمپنیاں شامل ہیں۔ Ekta نے سابق ایرانی فوجیوں اور جنگ میں لڑنے والے سپاہیوں کے لیے سوشل انشورینس فنڈ بھی قائم کیا تھا۔

ایکٹا کمپنی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عیسیٰ رضائی ہیں۔ یہ کمپنی بھی ایرانی پاسداران انقلاب کی ملکیت میں کام کررہی ہے۔ یہ کمپنی امریکا نے خطے میں عسکریت پسندوں کو اسلحہ سپلائی کرنے کے الزام میں بلیک لسٹ کررکھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں