.

مصر، فرانس، جرمنی اور اردن کا اسرائیل کو مغربی کنارے کے علاقے ہتھیانے پرانتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر ، فرانس ، جرمنی اور اردن نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ غربِ اردن میں فلسطینی علاقوں کو ہتھیاکر صہیونی ریاست میں ضم کرنے سے گریز کرے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ اگر اس نے ایسا کیا تو اس کے دوطرفہ سفارتی تعلقات کے لیے مضمرات ہوسکتے ہیں۔

جرمن کی وزارت خارجہ نے ان چاروں ممالک کی جانب سے منگل کے روز ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے اور اس میں بتایا ہے کہ ان کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

ان چاروں کے علاوہ بیشتر یورپی ممالک اسرائیل کے غربِ اردن کے بعض علاقوں اور وادیِ اردن کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کے اقدام کی مخالفت کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو یہودی آباد کاروں کی بستیوں اور وادیِ اردن کو ریاست میں شامل کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس سال کے اوائل میں مشرق اوسط میں قیام امن کے لیے پیش کردہ متنازع منصوبہ سے شہ ملی ہے۔اس منصوبہ میں مذکورہ علاقوں پر اسرائیلی قبضے کی تائید کی گئی ہے۔

صہیونی وزیراعظم بین الاقوامی برادری کی مخالفت کے باوجود فلسطینی علاقوں کو ہتھیانے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ اس ضمن میں ان کی بھرپور حمایت اور حوصلہ افزائی کررہی ہے۔امریکی صدر قبل ازیں اسرائیل کے گولان کی چوٹیوں پر قبضے کو بھی جائز تسلیم کرچکے ہیں اور مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرچکے ہیں۔ تاہم امریکا نے ابھی تک اسرائیل کے اس منصوبے کی منظوری نہیں دی ہے۔

فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کے اس منصوبے کی مخالفت کررہی ہے۔ فلسطینی پورے غرب اردن اور غزہ کی پٹی پر مشتمل علاقوں کو اپنی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست میں شامل کرنا چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت مقبوضہ بیت المقدس ہو۔

مذکورہ چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے ویڈیو کانفرنس کے بعد کہا ہے کہ’’ ہم نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ 1967ءمیں قبضے میں لیے گئے فلسطینی علاقوں کا صہیونی ریاست میں انضمام بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگا اور اس سے امن عمل کی بنیادیں متاثر ہوں گی۔‘‘

انھوں نے بیان میں واضح کیا ہے کہ ’’ہم 1967ء کی سرحدوں میں ایسی کسی تبدیلی کو تسلیم نہیں کریں گے جس پر تنازع کے دونوں فریقوں کا اتفاق نہ ہو۔‘‘انھوں نے مزید کہا ہے کہ ’’اس اقدام کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے لیے مضمرات ہوں گے۔‘‘

اسرائیل نے فوری طور پر اس کے ردعمل میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے لیکن صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے الگ سے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے سوموار کو برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کو بتایا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کے ’’حقیقت پسندانہ‘‘ امن عمل کے لیے پُرعزم ہیں۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ’’ اسرائیل صدر ٹرمپ کے امن منصوبہ کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔یہ منصوبہ تخلیقی اور حقیقت پسندانہ ہے اور یہ ماضی کے ناکام فارمولوں کا حصہ نہیں بنے گا۔‘‘