.

ایران نے اپنے تحفظ کے لیے چین کے ساتھ ذلت آمیز معاہدہ کیا ہے: رضا پہلوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سابق شاہ ایران کے ولی عہد نے تہران اور بیجنگ کے درمیان اُس معاہدے سے خبردار کیا ہے جس پر جلد دستخط کیے جائیں گے۔ معاہدے کے تحت ایران کے وسائل چین کے حوالے کیے جائیں گے اور اس کے مقابل چینی افواج کو ایران کے تحفظ کے لیے بھیجا جائے گا۔ اس کے علاوہ سمجھوتے کی خفیہ شقیں بھی ہیں جن کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ٹویٹر پر ایرانی عوام کے نام اپنے پیغام میں رضا پہلوی نے کہا کہ "ہمارے ملک کے حکمراں نظام نے چین کے ساتھ ایک شرم ناک سمجھوتا کیا ہے جو 25 برس جاری رہے گا. اس طرح چین کو ہمارے قدرتی وسائل لُوٹنے کی اجازت دے دی گئی ہے اور اس کے مقابل وہ اپنے فوجیوں کو ہماری سرزمین پر بھیجے گا"۔

ولی عہد نے مزید کہا کہ "اس ذلت آمیز معاہدے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ غیر ایرانی اور ملک معاند بدمعاش حکمراں خفیہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں اور یہ آپ عوام کو اپنے قدرتی حقوق سے محروم کر رہے ہیں"۔

رضا پہلوی کے مطابق کسی بھی قومی معاہدے یا سمجھوتے کی شرائط اور تفصیلات کو پہلے ایرانی عوام کے سامنے رکھا جانا چاہیے، عوام کی منظوری کے بعد پھر انہیں عوام کے جمہوری نمائندوں کے سامنے موافقت کے لیے پیش کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اے میرے شہریو! وقت کا فوری تقاضا یہ ہے کہ ہم سب اپنے مختلف سیاسی نظریات سے قطع نظر ایران کے مفادات کے بارے میں سوچیں اور اس رُسوا کن معاہدے کی مخالفت میں کھڑے ہو جائیں ،، یقینا خاموشی کوئی آپشن نہیں ہے!"

اس قبل ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف یہ بتا چکے ہیں کہ ایران اس وقت چین کے ساتھ ایک سمجھوتے کے حوالے سے مذاکرات کر رہا ہے جس کی مدت 25 برس ہو گی۔ سمجھوتے پر اتفاق رائے ہوتے ہی اس کی شرائط کا اعلان کر دیا جائے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ اس موقف پر مصر ہیں کہ چین کے ساتھ سمجھوتے کے حوالے سے کوئی بات خفیہ نہیں ہے۔

جواد ظریف کے مطابق ان مذاکرات کے بارے میں جنوری 2016 میں پہلے ہی اعلان کیا جا چکا ہے جب چینی صدر شی جن پنگ نے تہران کا دورہ کیا تھا۔