.

ترک حملہ آوروں اور ان کے اجرتی جنگجوؤں کو نکال کر ہی دم لیں گے: خلیفہ حفتر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں قومی فوج کے سربراہ خلیفہ حفتر کا کہنا ہے کہ ان کی فوج " تُرک حملہ آوروں اور ان کے اجرتی جنگجوؤں کے لیبیا سے نکلنے کے مطالبے سے کسی طور دست بردار نہیں ہو گی"۔

منگل کے روز لیبیا کی فوج کے افسران کی ایک نئی کھیپ کی پاسنگ آؤٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حفتر کا کہنا تھا کہ " ترکی کی جارحیت لیبیا کی وحدت اور خطے کے استحکام کے لیے خطرہ بن رہی ہے"۔

لیبیا میں عسکری مداخلت کے بعد ترکی وفاق حکومت کے مسلح گروپوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ ان گروپوں کا دارالحکومت طرابلس پر قبضہ ہے۔

لیبیا کی فوج کے سربراہ نے خبردار کیا کہ " ترکی ہمارے ملک کے وسائل اور دولت پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے"۔ حفتر نے زور دے کر واضح کیا کہ موجودہ صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہتھیار اور اجرتی جنگجوؤں کو لیبیا میں لانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

لیبیا کی فوج طرابلس میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی ہے تا کہ ملک کو یک جہتی کے نقطے پر لایا جا سکے۔ لیبیا کی فوج وفاق حکومت پر الزام عائد کرتی ہے کہ وہ دہشت گرد عناصر کو سپورٹ کر رہی ہے۔

لیبیا کی فوج کے سربراہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ترکی کی جارحیت کے خلاف جد و جہد جاری رہے گی اور لیبیا سے ترک حملہ آوروں کو نکال کر ہی دم لیا جائے گا۔