.

یمن: تعز میں جنگی تباہ کاریوں میں بچوں کی تفریح کے لیے پارک قائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی تعز گورنری میں مسلط کردہ محاصرے اور حوثی ملیشیا کی جانب سے مسلط کردہ جارحیت کے نتیجے میں سانحہ ہرطرف مصائب وآلا، تباہ کاریاں عام ہیں۔ کئی سال سے مسلط کی گئی جنگ کے نتیجے میں تعز میں انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ گنجان آباد شہر میں تمام پارک اور تفریح گاہیں بند ہوچکی ہیں۔

ایسے میں نیرمین نامی ایک خاتون نے"نمو واٹر مارٹ" پروجیکٹ کے تحت تعز کے وسط میں المجلیہ کے مقام پر بچوں کے لیے ایک تفریح پارک قائم کیا ہے۔ یہ علاقہ حوثی باغیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان گھمسان کی جنگ کا مرکز رہا ہے۔ لڑائی کے نتیجے میں شہرمیں سیکڑوں جنازے اٹھ چکے ہیں اور المجلیہ کا ہر دوسرا خاندان ماتم کدہ ہے۔ حوثی باغیوں کی طرف سے مسلط کی گئی جارحیت اور گولیوں کی گن گرج میں ہزاروں بچوں کے لیے تفریح کا سامان مہیا کرنا ہمت اور بہادری کی بات ہے۔

نیرمین نے بتایا کہ اسے اس منصوبے کو کامیاب بنانے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیمو واٹر مارٹ منصوبے سے بچوں کو تفریح اور خواتین کو روزگارکے مواقع بھی ملیں گی اوراس پارک کے قیام سے جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی کشیدگی اور اس کے بچوں پر پڑنے والے اثرات کم کرنے میں مدد ملے گی۔

العربیہ اور الحدث ٹی وی چینلوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہریوں بالخصوص بچوں پر جنگ کے تباہ کن اثرات کم کرنے اور خواتین کو معاشی مواقع پیدا کرنے کے لیے اس طرح کے منصوبے اہمیت کے حامل اور ضروری ہیں۔

دوسری طرف تعز کی خواتین اور سماجی حلقوں کی طرف سے نرمین کے بچوں کے لیے پارک کے قیام کی تعریف کی ہے۔