.

ایرانی اڈے اور جزیرے چین کو دینے کا 25 سالہ متنازع سمجھوتا کیا تھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین اور ایران کے درمیان 25 سال کی مدت کے لیے طے پایا دو طرفہ تعاون کا ایک متنازع معاہدہ ایک بار پھر میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اس متنازع سمجھوتے پرایک رپورٹ میں روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ کس طرح ایرانی لیڈرشپ نے ایران کے اڈے اور جزیرے چینی سرمایہ کاری کے حصول کے لیے بیجنگ کے حوالے کردیے تھے۔

رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنے کئی فوجی اور فضائی اڈے اور جزیرے چین کو استعمال کے لیے دیے۔ اس کے بدلے میں ایران نے معاشی، سیکیورٹی اور عسکری شعبوں میں کو سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ اس کے ساتھ ایران نے چین کو ایران کے خام تیل کی خریداری کی ترغیب دی گئی اور بیجنگ کو کم قیمت پرتیل فروخت کرنے کا وعدہ کیا گیا۔

اس معاہدے کے تحت چین کو ایران کی جسک بندرگاہ کی ڈویلپمنٹ، ایران میں ایک صنعتی شہر کے قیام، تیل صاف کرنے کے کارخانوں، پیٹرو کیمیکل مصنوعات، المونیم دھاتوں اور لوہے کے کارخانوں کے قیام اور مکران کے ساحل پر سیاحتی شہروں کے قیام کے منصوبوں میں شامل کیا گیا۔

دونوں ملکوں کے درمیان اس معاہدے کے بہت سے نکات کو مخفی رکھا گیا۔ یہاں تک کہ ایرانی وزارت خارجہ نے ایسے کسی سمجھوتے کی نفی کی۔

کل بدھ کے روز ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے ایک بیان میں کہا کہ چین اور ایران کے درمیان کوئی خفیہ معاہدہ نہیں ہوا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی شراکت ایک واضح روڈ میپ کے مطابق جاری ہے۔ چین مستقبل قریب میں دنیا کی ایک عظیم معاشی طاقت بننے جا رہا ہے جب کہ مغربی ایشیا میں ایران بھی ایک عظیم طاقت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک کو چین اور ایران کے باہمی تعلقات اور دونوں ملکوں کی ترقی پر ہمیشہ تشویش رہی ہے اور عالمی شیطانی طاقتیں ایران اور چین کو ہمیشہ پیچھے کی طرف دھکیلنے کی کوشش میں مصروف رہی ہیں۔

عباس موسوی نے ایرانی جزائر کسی دوسرے ملک کی فوج کے حوالے کرنے کی تردید کی اور کہا کہ چین کو ایرانی فوجی اڈے اور جزائر فراہم کرنے کی خبریں من گھڑت اور جھوٹ ہیں۔

درایں اثنا ایرانی صدر کے پرنسپل سیکرٹری محمود واعظی نے کہا کہ چین اور ایران کے درمیان طے پائے معاہدے میں ایران تمام نکات پرعمل درآمد کا پابند نہیں۔ انہوں نے مغربی ممالک اور ان کے ذرائع ابلاغ پر ایران اور چین کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی سازش کا الزام عاید کیا۔

خیال رہے کہ سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے گذشتہ ماہ کے آخر میں ایران اور چین کے درمیان ماضی میں طے پائے ایک خفیہ معاہدے کا انکشاف کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا اس کہ سمجھوتے کے لیے ایران اور چین کے درمیان پس پردہ بات چیت ہوئی تھی جس کے بعد دونوں ملکوں نے پچیس سالہ باہمی تعاون کا ایک معاہدہ کیا۔

سابق ایرانی صدر نے اس سمجھوتے کو متنازع قرار دیا اور کہا کہ اس میں ایرانی عوام کی رائے شامل نہیں کی گئی۔ یہ سمجھوتا ایرانی ریاست اور عوام کے مفاد کے خلاف ہے۔

احمدی نژاد نے 27 جون کو ایرانی کابینہ کی جانب سے اس معاہدے کی باقاعدہ منظوری پر بھی کڑی تنقید کی تھی۔

"أويل پریس" نامی ایک ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ایران معاہدے کے تحت چین کوتیل، گیس، پیٹروکیمیکل مصنوعات، ٹرانسپورٹ حتیٰ کہ فوجی مصنوعات بھی فراہم کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق بدلے میں چین ایران میں تیل، گیس، پٹرولیم مصنوعات سیکٹر اور دیگر شعبوں میں 2 کھرب 80 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ چین کی جانب سے یہ رقم معاہدے کے پہلے پانچ سال میں دی جائے گی جب کہ معاہدہ کم سے کم پچیس سال تک جاری رہے گا۔ بعد میں اس میں مزید توسیع کی جاسکے گی۔