.

احتجاج اور مذمت کے باوجود ترک فوج کی شمالی عراق میں بمباری جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ ماہ کے وسط میں ترکی کی طرف سےشمالی عراق میں کرد باغیوں کے خلاف شروع کیے گئے فوجی آپریشن کی بغداد حکومت کی جانب سے شدید مذمت کے باوجود انقرہ نے عراق میں بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

گذشتہ ہفتے عراقی وزارت خارجہ نے بغداد میں متعین ترک سفیر کو طلب کر کے شمالی عراق میں ترک فوج کی کارروائی کی شدید مذمت کی تھی۔

عراق کے احتجاج کےباوجود ترک فوج نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب عراق کی شمالی دھوک گورنری میں فضائی اور زمینی حملے کیے۔ ان حملوں میں دو دیہاتوں برواری بالا اور باتیفا کو نشانہ بنایا گیا۔

جمعہ کے روز ترک کمانڈوز ہیلی کاپٹروں کی مدد سے زاخو کے نواحی علاقے درکار کے جبل شاقول میں پہنچایا گیا تھا۔

العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے گذشتہ ہفتے عراق کی درکار گورنری کے ڈائریکٹر زیر فان موسیٰ نےانکشاف کیا تھا کہ ہیلی کاپٹر سے اتارے گئے ترک کمانڈوز شاقول پہاڑی علاقے میں داخل ہوئے۔ ان کی پہاڑ پر چڑھائی کے دوران دو ترک ہیلی کاپٹروں نے ان کی نگرانی اور حفاظت کی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ ترک افواج نے جبل شاقول اور اطراف کے علاقوں میں کم سے کم 45 چیک پوسٹیں قائم کر رکھی ہیں حالانکہ کرد باغی یہاں سے کافی فاصلے پر ہیں۔ وہ غاروں اور چھوٹے چھوٹے آبادی والے علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ ترک فوج نے 15 جون کو شمالی عراق میں کردوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔ ترک فوج زاخو میں باتیفا کے علاقے میں داخل ہوئی۔ اس کی لمبائی 45 سے 50 کلومیٹر اور گہرائی میں 15 سے 30 کلومیٹر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں