حرم مکی کے کبوتروں کا قصہ ، سعودی فوٹو گرافر کے کیمرے کی آنکھ سے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے ایک پیشہ ور فوٹو گرافر بدر العتیبی نے حرم مکی میں کبوتروں کی نقل وحرکت اور ان کی وجہ سے ماحول میں ہونے والی خوبصورتی کو اپنے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرکے مسجد حرام کے اس پہلو کو اجاگر کرنے کی منفرد کوشش کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مکہ معظمہ کی ام القریٰ یونیورسٹی میں قانون کے طالب علم بدر العتیبی نے بتایا کہ فوٹو گرافی کا شوق چھ سال قبل پیدا ہوا۔

پہلے پہل اس نے موبائل کیمرے سے اپنا شوق پورا کرنے کی کوشش کی مگر بعد میں اس نے ایک پیشہ ور فوٹو گرافر بننے کے لیے دوستوں کے مشورے سے ایک کیمرہ خرید کیا۔

اس نے بتایا کہ حرم مکی میں آنے والے کبوتر مختلف ناموں ،رنگوں اور نسلوں کے ہیں۔ تاریخ اور دستاویزی کتابوں میں بھی کبوتروں کی اقسام کی تفصیلات ملتی ہیں۔ ان میں سے بعض کی گردن بہت ہی نیلے رنگ ہوتی ہے۔ اس کے پروں کنارے اوردم سیاہ ہوتی ہے جبکہ ان کا باقی حصہ سفیدی مائل نیلے رنگ کا ہوتا ہے۔ انواع واقسام کے کبوتر مکہ معظمہ بالخصوص مسجد حرام اور مسجد نبوی کے اطراف میں اڑتے ہیں۔

العتیبی نے بتایا کہ اس نے حرم مکی میں کبوتروں کی لی گئی تصاویر اپنے دوستوں کے ذریعے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی شائع کی تاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ لوگ دیکھ سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں