.

لاس ویگاس میں عالمی فلمی مقابلے میں سعودی فلم کے چرچے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک نئے سنیما اقدام میں سعودی نوجوانوں نے ایک نئی فلم تیار کی ہے جس کے چرچے لاس ویگاس میں ہونے والے بین الاقوامی فلمی مقابلے میں بھی سنے جا رہے ہیں۔

سعودی نوجوانوں کی تیار کردہ اس فلم میں معاشرتی مسائل کو اجاگر کیا گیا ہے۔ یہ فلم سعودی نوجوانوں کی تخلیقی انوینٹری صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

عسیر خطے کے شہر ابھا سے فلم "ڈوپاماین" نے عالمی سنیما انڈسٹری کی ٹرین پر ایک ممتاز نشست بُک کی ، جب انہیں امریکا کے لاس ویگاس فاسٹگس بین الاقوامی فلمی میلے کے لیے نامزد کیا گیا۔ یاسر ہیجان کی ہدایتکاری میں بنائی گئی فلم میں عبد العزیز آل عبود کی کہانی اور یوسف المقبل کی پروڈکشن شامل ہے۔

فلم کے ہدایتکار نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو فلم کی کہانی کے بارے میں بتایا۔ انھوں نے کہا کہ فلم میں فہد نامی ایک نوجان کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ اسے ایک قتل کے واقعے میں ملوث قرار دیا جاتا ہے جو اس نے دانستہ نہیں بلکہ مجبورا کیا ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کےھجوم سے فرار ہونے کی کوشش کرتا ہے اور اس کا ایک دوست ماجد اسے اس پریشانی سے نجات دلاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلم کا نام ڈوپاماین مادہ سے لیا گیا ہے۔یہ ایک ایسا مادہ ہے جسے خدا نے انسان کے دماغ میں پیدا کیا ہے جب انسان نفسیاتی عوارض کا شکار ہوتا ہے تو خوابوں جیسی چیزیں اس کے دماغ میں گھومتی ہیں

انہوں نے یہ بھی مزید کہا کہ ہم نے سائنسی معلومات کو درست ثابت کرنے، ابہام کے پہلو کو متحرک کرنے اور توجہ اپنی طرف راغب کرنے کا خیال رکھتے ہوئےاس حقیقت کو ایک ڈرامائی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ فلم کے ہدایت کار نے مزید کہا کہ ابھی سعودی عرب میں فلمی پروڈکشن شاید عالمی معیار کے مطابق نہیں مگر سعودی عرب کے نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتیں جلد عالمی سینما میں دیکھی جائیں گی۔