.

لیبیا : آئل فیلڈز اور آئل پورٹس کو کھولنے کے لیے فوج کی شرائط کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں خلیفہ حفتر کے زیر قیادت قومی فوج نے ہفتے کے روز شرط عائد کی ہے کہ ایک ایسا میکانزم وضع کیا جائے جو تیل کی آمدنی کو مسلح ملیشیاؤں اور اجرتی جنگجوؤں کے ہاتھوں میں نہ جانے کو یقینی بنائے۔ اس سے قبل لیبیا کی فوج یہ باور کراتی رہی ہے کہ عوام کے مطالبات کا مثبت جواب نہ دیے جانے تک آئل فیلڈز اور آئل پورٹس (بندرگاہوں) کی بندش جاری رہے گی۔

تفصیلات کے مطابق لیبیا کی فوج کے سرکاری ترجمان میجر جنرل احمد المسماری نے ٹیلی وژن پر اپنے خطاب میں بندرگاہوں اور آئل فیلڈز کے دوبارہ کھولے جانے کے لیے شرائط کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی ضمانتوں کے ساتھ ایک ایسا شفاف میکانزم وضع کیا جائے جو اس بات کو یقینی بنائے کہ تیل کی آمدنی دہشت گرد ملیشیاؤں اور اجرتی جنگجوؤں کی سپورٹ کے لیے استعمال نہیں ہو گی۔

المسماری نے مطالبہ کیا کہ کسی ایک ریاست میں خصوصی بینک اکاؤنٹ کھولا جائے جس میں تیل کی آمدنی کو جمع کرایا جائے۔ اس آمدنی کی لیبیا کے تمام صوبوں اور تمام عوام پر منصفانہ تقسیم کے لیے ایک عادلانہ طریقہ کار ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لیبیا کے مرکزی بینک کے کھاتوں کے آڈٹ کی ضرورت ہے تا کہ گذشتہ برسوں کے دوران تیل کی آمدنی خرچ کیے جانے کی تفصیلات سامنے آ سکیں۔ اس طرح تیل کی آمدنی کو برباد کرنے اور اسے غیر موزوں جگہ خرچ کرنے والوں کا احتساب ہو سکے گا۔

المسماری نے زور دے کر کہا کہ قومی فوج لیبیائی عوام کے مسلح افواج کی قیادت پر اعتماد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ،،، کیوں کہ عوام نے تمام تر مطالبات کے پورا ہونے کے لیے فوج کو عالمی برادری کے ساتھ مذاکرات کا مینڈیٹ دیا ہے۔

لیبیا میں نیشنل آئل کارپوریشن نے ہفتے کے روز ایک رپورٹ میں اندازہ لگایا ہے کہ آئل فیلڈز اور آئل پورٹس کی بندش کے 175 دنوں کے دوران 6738228000 (6 ارب 73 کروڑ 82 لاکھ 28 ہزار) ڈالر کا خسارہ ہو چکا ہے۔ یہ بندش رواں سال جنوری میں شروع ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ لیبیا کے مسلح تنازع میں ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے انتہائی منافع بخش تجارتی سودے حاصل کرنے کا موقع پا لیا۔ ان سودوں کو ترکی کی کمپنیوں کے سپرد کر دیا گیا جن میں ایردوآن کے خاندان کے افراد اور ترکی کے صدر کے مقرّب افراد کی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔

انقرہ حکومت کی کوشش ہے کہ وہ طرابلس میں وفاق حکومت کے ساتھ سمجھوتوں کے ذریعے لیبیا میں منصوبوں کے بڑے حصے کو ترک کمپنیوں کو نواز دے۔ ان میں تعمیرات اور توانائی کے شعبے خاص طور پر شامل ہیں۔

اس سلسلے میں تازہ ترین اقدام منگل کے روز سامنے آیا جب فائز السراج کے زیر قیادت وفاق حکومت کا ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں لیبیا میں ترکی کی سرمایہ کاری اور ترک کمپنیوں کی واپسی پر بات چیت ہوئی۔ اس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان موقوف منصوبوں کا دوبارہ شروع کرنا ہے۔

اجلاس کے بعد بعض ترک مپنیوں نے لیبیا کا رخ کرنے کا اعلان کر دیا تا کہ وہاں اپنے کام کا آغاز کر سکیں۔

لیبیا میں کام کرنے والی یا کام کے لیے منصوبہ بندی کرنے والی سب سے بڑی کمپنیوں کی شناخت پر گہری نظر ڈالی جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کمپنیوں کی ملکیت ایردوآن کے خاندان یا ان کی قریبی کاروباری شخصیات اور جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والوں کے پاس ہے۔

یہ کمپنیاں آئندہ عرصے میں لیبیا میں اپنی سرگرمیوں میں اضافے اور مزید سمجھوتے حاصل کرنے کی خواہش مند ہے۔ ان میں ہتھیاروں سے لیس کرنے، عسکری مشاورت ، عسکری تربیت اور وفاق حکومت کی فورسز کی سیکورٹی اور پہرے داری سے متعلق معاہدے شامل ہیں۔ ان تمام امور کا مقصد لیبیا میں ترکی کے مستقل وجود کو یقینی بنانا ہے۔