.

ترکی نے مزید 356 اجرتی جنگجوؤں کو مصراتہ منتقل کر دیا : لیبیائی ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ کے ذرائع کے مطابق گذشتہ 10 گھنٹوں کے دوران ترکی سے آنے والے دو طیارے لیبیا کے شہر مصراتہ کے ہوائی اڈے پر اترے۔ ان طیاروں میں مختلف عرب شہریتوں کے حامل 356 اجرتی جنگجوؤں کو لایا گیا ہے۔ ان ملکوں میں شام اور تونس شامل ہے۔

اس سے قبل "ارم نيوز" ویب سائٹ نے انکشاف کیا تھا کہ ترکی نے گذشتہ دنوں کے دوران شام میں حلب اور ادلب سے تقریبا 1400 تونسی جنگجوؤں کو لیبیا منتقل کیا۔ ان جنگجوؤں کا تولق شدت پسند تنظیموں سے ہے۔

ویب سائٹ کے ذرائع کے مطابق لیبیا اور ترکی کے شہری طیاروں نے شدت پسند تونسی جنگجوؤں کے دستوں کو غازی عنتاب اور استنبول منتقل کیا اور اس کے بعد مصراتہ پہنچایا۔

ادھر لیبیا کی فوج کے سرکاری ترجمان میجر جنرل احمد المسماری نے آج پیر کے روز باور کرایا ہے کہ لیبیا کی مسلح افواج سرت اور الجفرہ پر ترکی اور اس کے اجرتی جنگجوؤں کے کسی بھی حملے کو پسپا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ المسماری کے مطابق لیبیا کی قومی سلامتی بڑی حد تک مصر کی قومی سلامتی کے ساتھ مربوط ہے۔

المسماری کا مزید کہنا تھا کہ ترکی سرت اور الجفرہ کو نشانہ بنا رہا ہے کیوں کہ اس کی نظر لیبیا کی دولت اور مال پر ہے۔

المسماری نے طرابلس میں نیشنل آئل کارپوریشن پر الزام عائد کیا کہ یہ ادارہ سب کو گمراہ کر رہا ہے۔ ترجمان نے انکشاف کیا کہ ترکی اب تک سترہ ہزار شامی اجرتی جنگجوؤں اور متعدد دہشت گردوں کو طرابلس منتقل کر چکا ہے۔ علاوہ ازیں وہ انہیں بھاری ہتھیار بھی فراہم کر رہا ہے۔

المسماری کے مطابق لیبیا کی الاخوان تنظیم ترکی کی الاخوان کے ساتھ رابطہ کاری سے لیبیا کے مغربی حصوں پر قابض ہے۔ انہوں نے ترکی پر الزام عائد کیا کہ وہ ملک کے مغرب میں گیس کی سپلائی لائنوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں