.

پاسداران انقلاب کا انسداد کرونا کے لیے" 110 معاون ڈیوائس" کا دعویٰ مذاق بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان رمضان شریف نے اعلان کیا ہے کہ کرونا کے انکشاف کے لیے جس " 110 معاون آلے" کا گذشتہ ماہ عہدیداروں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ابھی تک تجربات کے مراحل میں ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد عوامی حلقوں میں حکومت پر تنقید کی ایک نئی لہر اٹھ کھڑی ہوئی ہے اور پاسداران انقلاب کی طرف سے یہ دعویٰ عوام میں ایک بار پھر مذاق بن کر رہ گیا ہے۔

رمضان شریف نے پیر کے روز ویب سائٹ "رویداد 24" کے ساتھ ایک انٹرویو میں دعوی کیا تھا کہ ان ڈیوائس کو تجرباتی عمل سے گذرارا جا چکا ہے لیکن ابھی تک ان کی تیاری شروع نہیں کی گئی۔

پاسداران انقلاب کے ترجمان نے اس اسپتال یا سائنسی مرکز کا ذکر نہیں کیا جہاں ٹیسٹ ہورہے ہیں۔

پاسداران انقلاب کے کمانڈر حسین سلامی نے 17 اپریل کو دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے کرونا کا پتا لگانے کے لیے ایسے دسیوں آلات تیار کیے ہیں جوپانچ سیکنڈ میں 100 میٹر کے فاصلے سے کسی بھی وائرس کا پتہ چلاسکتے ہیں۔

انہوں نے اس آلے کو "حیران کن سائنسی معجزہ" قرار دیا اور اس کے لیے معاون ڈیوائس 110 کا نام دیا۔

لیکن حسین سلامی کے اس اعلان پر ایرانی عوام کی طرف سے کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی بلکہ سوشل میڈیا پر اس کا مذاق اڑایا گیا۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایران مشرق وسطیٰ میں کرونا کی وبا کا سب سے زیادہ نشانہ بنا ہے۔ پاسداران انقلاب کے آلات کے تیاریوں کے دعوے اس لیے جھوٹ ہیں کیونکہ ایران میں ابھک تک کرونا کی وبا پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔

ایرانی طبیعیات سوسائٹی نے بھی 17 اپریل کو ایک بیان میں اس دعوے کو ناقابل یقین قرار دیا ہے کہا کہ اس طرح کے دعوے سائنس فکشن سے زیادہ کچھ نہیں۔