.

خامنہ ای کے خلاف احتجاج، ایرانی شہری کی خود کشی کی کوشش

"تم ملک کو چالیس سال سے لوٹ رہے ہو"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی عوام موجودہ نظام سے کس قدر تنگ اور نالاں ہیں اس کا اظہار اکثر ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہوتا رہا ہے۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو سے بھی یہ ظاہر ہورہا ہے کہ ایرانی عوام موجودہ رجیم اور اس کی لوٹ مار سے کس قدر تنگ ہیں۔ ولایت فقیہ کے نام نہاد پاسداروں کی لوٹ مار کے نتیجے میں لوگ خود کشی پر مجبور ہیں۔

ایران انٹرنیشنل ویب سائٹ نے ایک ویڈیو اپ لوڈ کی ہے جس میں ایک ایرانی شہری ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے خود کشی کی کوشش کر رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق خود کشی کی کوشش کرنے والا شخص گاڑی کے پہیوں کے نیچے جاتے ہوئے چیخ رہا تھا ہے کہ ایرانی رہ نما علی خامنہ ای اور اس کے حواری 40 سال سے ملک کو لوٹ رہے ہیں۔

اس نوجوان نے غربت اور بدحالی کی وجہ سے اپنی زندگی ختم کرنے کی کوشش کی۔ وہ چلایا کہ "میری ایک بیوی اور 3 بچے ہیں اور میرے پاس انہیں کھلانے کو کچھ نہیں ہے"۔ پھر جیب سے ایک کاغذ نکالا اورکہا کہ میرے پاس صرف یہ ایک کاغذ ہے۔ سپریم لیڈر سے کہیں کہ وہ یہاں آئے۔

ایران میں سرکاری سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت تقریبا 30 سے 40 فی صدایرانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ ریسرچ سینٹر نے ایک مطالعے میں بتایا ہے کہ گذشتہ دو سال میں ایران میں چار افراد کے ایک کنبے کے لیے ضروری آمدنی 25 ملین (130 ڈالر) سے بڑھ کر 45 ملین ریال (250 ڈالر) ماہانہ ہوگئی ہے جو 80 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔