.

سعودی عرب کا شام میں جاری بحران کے سیاسی حل کی ضرورت پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنیوا میں اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مشن میں انسانی حقوق کے شعبے کے سربراہ مشعل بن علی البلوی نے شام میں جنگ کے آغاز کے بعد سے وہاں کے شہریوں کے انسانی حقوق کی ان گنت سنگین خلاف ورزیوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور شامی بحران کے سیاسی حل کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

وہ منگل کے روز اقوام متحدہ کے تحت انسانی حقوق کونسل کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ بالخصوص ادلب اور حلب کے مغرب میں تمام فریقوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر حملوں نے طبی خدمات کو شدید طور پر متاثر کیاہے۔ اس کے نتیجے میں ہسپتالوں میں کام معطل ہو گیا اور مقامی آبادی طبی نگہداشت سے محروم ہو گئی۔ مقامی طور پر بے گھر ہونے والے افراد میں 80% خواتین اور بچے ہیں۔ ان میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کھلے میدان میں سونے پر مجبور ہو گئی۔ دیگر افراد کیمپوں میں پڑے ہوئے ہیں جہاں ان کو پینے کا صاف پانی اور نکاسی آب کی کوئی سہولت میسر نہیں۔

البلوی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ شام میں تنازع کے فریقوں پر دباؤ ڈالے تا کہ شہریوں کے خلاف انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ روکا جا سکے۔ انھوں نے باور کرایا کہ "فرقہ وار ملیشیائیں اور دہشت گرد جماعتیں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ یہ دونوں ہی تباہی اور بربادی پھیلا رہی ہیں اور بحرانوں کو طویل بنانے میں کردار ادا کر رہی ہیں۔ لہؑذا مملکت سعودی عرب تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف لڑنے کی اہمیت کو باور کراتی ہے اور اس سلسلے میں کوششوں کو مل کر کامیاب بنانے پر زور دیتی ہے"۔

انھوں نے سعودی عرب کے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ شام کے بحران کو "جنيوا 1" اعلامیے کے نکات اور سلامتی کونسل کی قرار داد 2254 کے تحت حل کیا جائے۔ اس طرح شامی عوام کی امیدوں کو پورا کیا جا سکے گا اور ان کے اپنے ملک میں امن و سکون سے رہنے کا حق بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔