.

شام میں ترکی کی مزید عسکری کمک، مجموعی فوجیوں کی تعداد 11 ہزار سے زیادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی جانب سے شام میں عسکری اور لوجسٹک کمک میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔ شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد نے بدھ کے روز بتایا کہ ترکی نے منگل کی نصف شب کے بعد کفرسولین کی گزر گاہ کے راستے مزید کمک پہنچائی ہے۔ اس طرح شام میں ترکی کے فوجیوں کی تعداد 11.5ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔

المرصد نے تفصیلات میں بتایا کہ ترکی کی مزید عسکری گاڑیاں مذکورہ سرحدی گزر گاہ کے راستے شام میں داخل ہوئیں اور انہوں نے "کم جارحیت" والے زون میں ترکی کے ٹھکانوں کا رخ کر لیا۔

نئی فائر بندی کے آغاز کے بعد سے اب تک ترکی کی 4705 فوجی گاڑیاں اور ہزاروں فوجی اہل کار شام کی اراضی میں داخل ہو چکے ہیں۔

اسی طرح رواں سال 2 فروری سے اب تک مذکورہ علاقے میں پہنچنے والی فوجی گاڑیوں اور ٹرکوں کی مجموعی تعداد 8040 سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان میں ٹینکس، بسیں، بکتر بند گاڑیاں اور پہرے داری کے کیبن شامل ہیں۔ اس دوران ادلب اور حلب میں تعینات کیے جانے والے ترک فوجیوں کی تعداد 11500 سے زیادہ ہو گئی ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال فروری سے انقرہ حکومت نے شام میں کم جارحیت والے علاقوں کے حوالے سے نئی بات چیت شروع کی۔ یہ پیش رفت بشار حکومت کی فوج کی جانب سے ادلب میں کاری ضربوں کے نتیجے میں ترکی کی فوج کے بھاری نقصان کے بعد سامنے آئی۔ اس طرح مارچ میں ایک بار پھر فائر بندی کو مضبوط بنانے اور روسی اور ترکی فوجی دستوں کے مشترکہ گشت پر سمجھوتا طے پا گیا۔

گذشتہ روز ان ہی مشترکہ دستوں میں سے ایک دستہ دوران گشت حملے کا نشانہ بن گیا۔ سڑک پر نصب بارودی سرنگ پھٹنے سے کم از کم 3 روسی فوجی زخمی ہو گئے۔