.

پھانسیوں کے 41 سال کافی ہیں، امریکی وزارت خارجہ کا ایران کے لیے تبصرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران سوشل میڈیا پر ایران میں سزائے موت کے فیصلوں کے خلاف وسیع پیمانے پر مہم کا آغاز ہو گیا۔ اس مہم میں ایران میں انسانی حقوق کے کارکنان شریک ہیں جن کا مطالبہ ہے کہ ایرانی جیلوں میں گرفتار افراد کے خلاف موت کے ظالمانہ فیصلے کا سلسلہ روک دیا جائے۔ ان افراد میں بالخصوص تین ایرانی نوجوان شامل ہیں جن کو گذشتہ برس نومبر میں ہونے والے مظاہروں میں شرکت کے تناظر میں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان نوجوانوں کے نام امير حسين مرادی، سعید تمجیدی اور محمد رجبی ہیں۔ امریکی وزارت خارجہ اور ایمنیسٹی انٹرنیشنل تنظیم بھی اس مطالبے میں شامل ہو چکی ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے فارسی زبان کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اُن کُرد شہریوں کی پھانسی کی تصویر پوسٹ کی گئی ہے جن کو ایران میں خمینی کے انقلاب کے آغاز پر موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ اس تصویر کے اوپر یہ بھی عبارت لکھی گئی ہے کہ پے در پے پھانسیوں کے 41 سال کافی ہیں۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے بھی ٹویٹر پر ایران میں موت کی سزاؤں ے خلاف یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کو چاہیے کہ تینوں نوجوان مظاہرین کے خلاف سزائے موت کے احکامات کو فوری طور پر منسوخ کر دیں … اس لیے کہ ان افراد کے خلاف عدالتی کارروائی منصفانہ نہیں تھی۔ تنظیم کے مطابق ان نوجوانوں نے تصدیق کی ہے کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس میں مار پیٹ اور کرنٹ کے جھٹکے دینا شامل ہے۔

مذکورہ نوجوانوں کے خلاف سزائے موت پر عمل درامد روکنے کا مطالبہ کرنے کے لیے ٹویٹر پر ٹویٹس کا تانتا بندھ گیا۔