.

خواتین کے حقوق کے حوالے سے منافقت، امریکی اخبار کی قطر پر کڑی تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی قومی سلامتی کے امور سے متعلق اخبار Washington Free Beacon نے قطر کو شدید نکتہ چینی کا نشانہ بنایا ہے۔ اس کی وجہ امریکی جریدے Foreign Policy کا خواتین کے امور سے متعلق وہ ایونٹ ہے جو قطر کی حکومت کی سرپرستی میں منعقد کیا جا رہا ہے۔

اخبار نے قطری حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ جہاں تک خواتین کے حقوق کے ریکارڈ کا تعلق ہے تو یہ کریک ڈاؤن کرنے والا ایک دہشت گرد نظام ہے۔ اخبار کی رپورٹ میں امریکی تنظیموں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ قطر کے بدعنوان اداروں کے ساتھ معاملات نہ کریں۔

رپورٹ کے مطابق فارن پالیسی جریدہ ایک ایونٹ منعقد کر رہا ہے جس میں خواتین کے حقوق کے شعبے میں قطر کی کامیابیوں پر روشنی ڈالی جائے گی۔ اس کے نتیجے میں یہ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ مذکورہ جریدہ ایک ایسے ملک کے ساتھ شراکت داری کر رہا ہے جو دہشت گردی کی فنڈنگ کرتا ہے۔ ساتھ ہی قطر کا نام دنیا بھر میں انسانی حقوق کی پامالی کرنے والے نمایاں ترین ممالک میں شامل ہے۔

فارن پالیسی جریدہ واشنگٹن میں قطر کے سفارت خانے کی شراکت سے سیاسی میدان میں خواتین کے لیے ایک ایونٹ پیش کرے گا۔ یہ بات انٹرنیٹ پر جریدے کی ویب سائٹ پر موجود پوسٹوں میں سامنے آئی ہے۔

اخبار کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ ایونٹ اس حوالے سے بھی سوالات اٹھا رہا ہے کہ فارن پالیسی جریدہ ایک ایسی ریاست کے ساتھ مالی تعلق رکھتا ہے جس نے امریکی اداروں کے ساتھ کھلواڑ کے لیے پورے واشنگٹن میں نفوذ کے واسطے اربوں ڈالر خرچ کر ڈالے۔

مزید برآں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قطر ایرانی نظام کے سب سے بڑے حلیفوں میں سے ایک ہے۔

امریکی اخبار نے فارن پالیسی جریدے کی اسٹریٹجک ڈیولپمنٹ ڈائریکٹر اور اس کے ایڈیٹر انچیف سے مذکورہ ایونٹ یا قطر کے ساتھ کسی بھی مالی تعلق کے انکشاف پر تبصرے کی درخواست کی تاہم دونوں شخصیات کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

اخبار کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ قطر نے امریکی ذرائع ابلاغ میں سرائیت کرنے کے لیے وسائل کا بے دریغ استعمال کیا ہے۔ اس مشن میں جن اداروں کے ساتھ شراکت داری عمل میں آئی ان میں Now This، Vox Media اور TED Talks شامل ہیں۔ ان تمام اداروں نے مباحثوں کا سلسلہ تیار کیا جن کی فنڈنگ قطر کے ایک ادارے نے کی جس پر دوحہ حکومت کا کنٹرول ہے۔

اس سے قبل امریکی اخبار Washington Free Beacon یہ بتا چکا ہے کہ قطر نے امریکا میں ذرائع ابلاغ ، واشنگٹن میں تھنک ٹینکس اور امریکی پریشر گروپوں کے ساتھ شراکت داری کے علاوہ امریکا میں تعلیم کے عام نظام میں دراندازی کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے۔