.

مصر نے ترکی کی عرب ریاستوں میں سیاسی اور فوجی مداخلت مسترد کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر نے عرب ممالک میں ترکی کی سیاسی اور فوجی مداخلت مسترد کردی ہے ۔

مصر کی وزارت خارجہ کے ترجمان احمد حافظ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ عراق ، شام یا لیبیا سمیت کسی بھی عرب ملک میں ترکی کی دخل اندازی کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔اس کا یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہے۔

ترجمان نے کہا:’’انھیں حیرت ہے کہ ترکی دوسرے ممالک کے تنازعات میں کیوں دخل اندازی کررہا ہے۔اس طرح وہ رخنوں کا موجب بن رہا ہے اور انقرہ کے نظریے کو اس انداز میں آگے بڑھا رہا ہے جس سے خود ترک عوام کے وسائل کا ضیاع ہورہا ہے۔‘‘

ترجمان نے کہا کہ عرب اقوام ان لوگوں کی کاوشوں کو مسترد کرتی ہیں جو وہ اپنے مقاصد اور مفادات کے حصول کے لیے بروئے کار لارہے ہیں۔

مصر کی لیبیا کے ساتھ طویل مگر غیر محفوظ صحرائی سرحد ہے۔اس نے لیبیا میں جاری خانہ جنگی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے لیبیا میں فوجی مداخلت کی دھمکی دے رکھی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اگر ترکی کی حمایت یافتہ فورسز نے سرت شہر پر قبضے کی کوشش کی تو وہ فوجی مداخلت کرے گا۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کے ملک کو لیبیا میں مداخلت کا قانونی حق حاصل ہے اور انھوں نے فوج کو تیار رہنے کا حکم دے دیا ہے تا کہ وقتِ ضرورت فوجی مشن انجام دیے جاسکیں۔

صدر السیسی نے کہا کہ ’’مصر ہمیشہ سے لیبیا میں مداخلت پر متردد رہا ہے لیکن اب صورت حال مختلف ہوچکی ہے۔‘‘واضح رہے کہ مصری صدر نے جون میں لیبیا میں جنگ بندی کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا تھا لیکن اب تک اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

لیبیا میں برسرپیکار دونوں متحارب فریقوں اور ان کے اتحادی ممالک کے درمیان حالیہ ہفتوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔طرابلس میں قائم قومی اتحاد کی حکومت (جی این اے) اور مشرقی لیبیا سے تعلق رکھنے والے جنرل خلیفہ حفتر کے زیرِ قیادت لیبی قومی فوج(ایل این اے) کے درمیان ایک دوسرے کے زیر قبضہ علاقوں پر کنٹرول کے لیے لڑائی جاری ہے۔مصر کے علاوہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جنرل خلیفہ حفتر کے حامی ہیں جبکہ ترکی جی این اے کی حمایت کررہا ہے ۔