سعودی عرب : کم سن بچی سے کمرشل اشتہارات کرانے پر اس کے اقارب عدالت میں طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی پبلک پراسیکیوشن کے ایک سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ پراسیکیوٹر نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس فوٹیج کا نوٹس لے لیا ہے جس میں ایک کم سن بچی کو مبینہ طورپر کمرشل اشتہارات کی تشہیر کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ویڈیوز سامنے آنے کےبعد پراسیکیوٹر جنرل نے بچی کے اقارب کو طلب کر کے ان سے اس بارے میں پوچھ تاچھ کا فیصلہ کیا ہے۔ عدالت بچی کے والدین اور دیگر اقارب سے کم سن بچی کے لیے نا مناسب اشتہارات کرانے پر پوچھ تاچھ کرے گی۔
پبلک پراسیکیوشن نے متعلقہ حکام کو بھی ہدایت کی کہ وہ بچی کی صورتحال اور آس پاس کے ماحول کے بارے میں نفسیاتی تحقیق کریں اور اس کی حالت کے لیے ضروری سفارشات تیار کریں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ پبلک پراسیکیوشن نے بچوں کے تحفظ کے نظام میں متعین ممنوعات اور اس کے ایگزیکٹو ضوابط کے مطابق کمرشل اشتہارات میں یا بچوں کے استحصال کے خلاف کسی بھی کاروائی کے خلاف متنبہ کیا ہے۔ ملکی قانون کے تحت کم سن بچوں کو کمرشل اشتہارات کے لیے استعمال کرنا ان کے ساتھ معاملات قرار دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں