.

سعودی عرب : کم سن بچی سے کمرشل اشتہارات کرانے پر اس کے اقارب عدالت میں طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی پبلک پراسیکیوشن کے ایک سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ پراسیکیوٹر نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس فوٹیج کا نوٹس لے لیا ہے جس میں ایک کم سن بچی کو مبینہ طورپر کمرشل اشتہارات کی تشہیر کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ویڈیوز سامنے آنے کےبعد پراسیکیوٹر جنرل نے بچی کے اقارب کو طلب کر کے ان سے اس بارے میں پوچھ تاچھ کا فیصلہ کیا ہے۔ عدالت بچی کے والدین اور دیگر اقارب سے کم سن بچی کے لیے نا مناسب اشتہارات کرانے پر پوچھ تاچھ کرے گی۔
پبلک پراسیکیوشن نے متعلقہ حکام کو بھی ہدایت کی کہ وہ بچی کی صورتحال اور آس پاس کے ماحول کے بارے میں نفسیاتی تحقیق کریں اور اس کی حالت کے لیے ضروری سفارشات تیار کریں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ پبلک پراسیکیوشن نے بچوں کے تحفظ کے نظام میں متعین ممنوعات اور اس کے ایگزیکٹو ضوابط کے مطابق کمرشل اشتہارات میں یا بچوں کے استحصال کے خلاف کسی بھی کاروائی کے خلاف متنبہ کیا ہے۔ ملکی قانون کے تحت کم سن بچوں کو کمرشل اشتہارات کے لیے استعمال کرنا ان کے ساتھ معاملات قرار دیا گیا ہے۔